صحیح بخاری ۔ جلد سوم ۔ دل کو نرم کرنے والی باتوں کا بیان ۔ حدیث 1498

جنت اور دوزخ کی صفت کا بیان، ابوسعید نے کہا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جنتی سب سے پہلے کھا نا جو کھائیں گے وہ مچھلی کی کلیجی ہوگی ۔ عدن کے معنی ہیں ہمیشہ رہنا، عدنت بارض کے معنی ہیں مکین نے اس زمین میں قیام کیا، مقعد صدق میں، معدن اسی سے ماخوذہے، یعنی سچائی پیدا ہونے کی جگہ ۔

راوی: معاذبن اسد , فضل بن موسیٰ , فضیل , ابوحازم ابوہریرہ

حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ أَسَدٍ أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ مُوسَی أَخْبَرَنَا الْفُضَيْلُ عَنْ أَبِي حَازِمٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَا بَيْنَ مَنْکِبَيْ الْکَافِرِ مَسِيرَةُ ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ للرَّاکِبِ الْمُسْرِعِ وَقَالَ إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ أَخْبَرَنَا الْمُغِيرَةُ بْنُ سَلَمَةَ حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ عَنْ أَبِي حَازِمٍ عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّ فِي الْجَنَّةِ لَشَجَرَةً يَسِيرُ الرَّاکِبُ فِي ظِلِّهَا مِائَةَ عَامٍ لَا يَقْطَعُهَا قَالَ أَبُو حَازِمٍ فَحَدَّثْتُ بِهِ النُّعْمَانَ بْنَ أَبِي عَيَّاشٍ فَقَالَ حَدَّثَنِي أَبُو سَعِيدٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّ فِي الْجَنَّةِ لَشَجَرَةً يَسِيرُ الرَّاکِبُ الْجَوَادَ الْمُضَمَّرَ السَّرِيعَ مِائَةَ عَامٍ مَا يَقْطَعُهَا

معاذ بن اسد، فضل بن موسیٰ، فضیل، ابوحازم حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ رواتے کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا: کہ کافر کے دونوں مونڈھوں کے درمیان تیز رفتار سوار کے تین دن کی مسافت ہوگی، اور اسحاق بن ابراہیم نے بواسطہ مغیرہ بن سلمہ، وہیب، ابوحازم ، سہل رضی اللہ تعالیٰ عنہ بن سعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا کہ جنت میں ایک درخت ہوگا کہ جس کے سایہ میں سوار سو سال تک چلے گا، اور اس کا سفر کبھی ختم نہ ہوگا، ابوحازم کا بیان ہے کہ میں نے یہ حدیث نعمان بن ابی عیاش سے بیان کی تو انہوں نے بیان کیا، کہ مجھ سے ابوسعید رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے بیان کیا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ جنت میں ایک درخت ہوگا کہ (اس کے سایہ میں) تیز رفتار، پھرتیلے گھوڑے پر سوار سو سال تک چلے پھر بھی اس کا سفر ختم نہ ہوگا۔

Narrated Abu Huraira:
The Prophet said, "The width between the two shoulders of a Kafir (disbeliever) will be equal to the distance covered by a fast rider in three days."

یہ حدیث شیئر کریں