صحیح بخاری ۔ جلد سوم ۔ دل کو نرم کرنے والی باتوں کا بیان ۔ حدیث 1494

جنت اور دوزخ کی صفت کا بیان، ابوسعید نے کہا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جنتی سب سے پہلے کھا نا جو کھائیں گے وہ مچھلی کی کلیجی ہوگی ۔ عدن کے معنی ہیں ہمیشہ رہنا، عدنت بارض کے معنی ہیں مکین نے اس زمین میں قیام کیا، مقعد صدق میں، معدن اسی سے ماخوذہے، یعنی سچائی پیدا ہونے کی جگہ ۔

راوی: مسدد , اسمٰعیل , سلیمان تیمی , ابوعثمان , اسامہ

حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ أَخْبَرَنَا سُلَيْمَانُ التَّيْمِيُّ عَنْ أَبِي عُثْمَانَ عَنْ أُسَامَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ قُمْتُ عَلَی بَابِ الْجَنَّةِ فَکَانَ عَامَّةُ مَنْ دَخَلَهَا الْمَسَاکِينَ وَأَصْحَابُ الْجَدِّ مَحْبُوسُونَ غَيْرَ أَنَّ أَصْحَابَ النَّارِ قَدْ أُمِرَ بِهِمْ إِلَی النَّارِ وَقُمْتُ عَلَی بَابِ النَّارِ فَإِذَا عَامَّةُ مَنْ دَخَلَهَا النِّسَائُ

مسدد، اسماعیل، سلیمان تیمی، ابوعثمان، حضرت اسمامہ، آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا میں جنت کے دروازے پر کھڑا ہوا، (تو دیکھا کہ) وہاں داخل ہونے والے زیادہ تر مسکین تھے، اور مال والے محبوس تھے، سوائے دوزخیوں کے کہ ان کو دوزخ لے جانے کا حکم دے دیا گیا تھا، اور دوزخ کے دروازے پر کھڑا ہوا، تو دیکھا وہاں داخل ہونے والوں میں اکثر عورتیں تھیں۔

Narrated Usama:
The Prophet said, "I stood at the gate of Paradise and saw that the majority of the people who had entered it were poor people, while the rich were forbidden (to enter along with the poor, because they were waiting the reckoning of their accounts), but the people of the Fire had been ordered to be driven to the Fire. And I stood at the gate of the Fire and found that the majority of the people entering it were women."

یہ حدیث شیئر کریں