صحیح بخاری ۔ جلد سوم ۔ دل کو نرم کرنے والی باتوں کا بیان ۔ حدیث 1493

جنت اور دوزخ کی صفت کا بیان، ابوسعید نے کہا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جنتی سب سے پہلے کھا نا جو کھائیں گے وہ مچھلی کی کلیجی ہوگی ۔ عدن کے معنی ہیں ہمیشہ رہنا، عدنت بارض کے معنی ہیں مکین نے اس زمین میں قیام کیا، مقعد صدق میں، معدن اسی سے ماخوذہے، یعنی سچائی پیدا ہونے کی جگہ ۔

راوی: عثمان بن ہیثم , عوف , ابورجاء عمران

حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ الْهَيْثَمِ حَدَّثَنَا عَوْفٌ عَنْ أَبِي رَجَائٍ عَنْ عِمْرَانَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ اطَّلَعْتُ فِي الْجَنَّةِ فَرَأَيْتُ أَکْثَرَ أَهْلِهَا الْفُقَرَائَ وَاطَّلَعْتُ فِي النَّارِ فَرَأَيْتُ أَکْثَرَ أَهْلِهَا النِّسَائَ

عثمان بن ہیثم، عوف، ابورجاء عمران، آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت کرتے ہیں، کہ آپ نے فرمایا: میں نے جنت میں جھانک کر دیکھا تو وہاں اکثر فقراء کو پایا اور جب دوزخ میں جھانکا تو میں نے دیکھا کہ وہاں زیادہ رہنے والی عورتیں تھیں۔

Narrated 'Imran:
The Prophet said, "I looked into paradise and saw that the majority of its people were the poor, and I looked into the Fire and found that the majority of its people were women."

یہ حدیث شیئر کریں