صحیح بخاری ۔ جلد سوم ۔ دل کو نرم کرنے والی باتوں کا بیان ۔ حدیث 1486

جس کے حساب میں پوچھ گچھ کی گئی تو اس عذاب ہوگا ۔

راوی: علی بن عبداللہ , معاذ بن ہشام , قتادہ , انس

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ قَالَ حَدَّثَنِي أَبِي عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَنَسٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ح و حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ مَعْمَرٍ حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ حَدَّثَنَا سَعِيدٌ عَنْ قَتَادَةَ حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ مَالِکٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ کَانَ يَقُولُ يُجَائُ بِالْکَافِرِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ فَيُقَالُ لَهُ أَرَأَيْتَ لَوْ کَانَ لَکَ مِلْئُ الْأَرْضِ ذَهَبًا أَکُنْتَ تَفْتَدِي بِهِ فَيَقُولُ نَعَمْ فَيُقَالُ لَهُ قَدْ کُنْتَ سُئِلْتَ مَا هُوَ أَيْسَرُ مِنْ ذَلِکَ

علی بن عبداللہ ، معاذ بن ہشام، قتادہ، حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت کرتے ہیں (دوسری سند) محمد بن معمر، روح بن عبادہ، سعید، حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کرتے ہیں، انہوں نے بیان کیا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ قیامت کے دن جب کافر کو لایا جائے گا تو اس سے کہا جائے گا بتاؤ، اگر تمہارے پاس زمین کے برابر سونا ہوتا تو تم اس کو بدلے میں دے کر (عذاب سے) چھٹکارا حاصل کرتے! وہ کہے گا ہاں! تو اس سے کہا جائے گا کہ تم سے اس سے کم مانگا گیا تھا۔

Narrated Anas bin Malik:
Allah's Prophet used to say, "A disbeliever will be brought on the Day of Resurrection and will be asked. "Suppose you had as much gold as to fill the earth, would you offer it to ransom yourself?" He will reply, "Yes." Then it will be said to him, "You were asked for something easier than that (to join none in worship with Allah (i.e. to accept Islam, but you refused)."

یہ حدیث شیئر کریں