صحیح بخاری ۔ جلد سوم ۔ دل کو نرم کرنے والی باتوں کا بیان ۔ حدیث 1464

صور پھونکنے کا بیان، مجاہد نے کہا کہ صور بوق کی طرح ایک چیز ہے زجرۃ کے معنی چیخ کے ہیں اور ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما نے کہا کہ ناقور سے مراد صور ہے راجفۃ سے مراد پہلی پھونک ہے اور رادفۃ سے مراد دوسری پھونک ہے ۔

راوی: عبد العزیز بن عبد اللہ

حَدَّثَنِي عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ وَعَبْدِ الرَّحْمَنِ الْأَعْرَجِ أَنَّهُمَا حَدَّثَاهُ أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ قَالَ اسْتَبَّ رَجُلَانِ رَجُلٌ مِنْ الْمُسْلِمِينَ وَرَجُلٌ مِنْ الْيَهُودِ فَقَالَ الْمُسْلِمُ وَالَّذِي اصْطَفَی مُحَمَّدًا عَلَی الْعَالَمِينَ فَقَالَ الْيَهُودِيُّ وَالَّذِي اصْطَفَی مُوسَی عَلَی الْعَالَمِينَ قَالَ فَغَضِبَ الْمُسْلِمُ عِنْدَ ذَلِکَ فَلَطَمَ وَجْهَ الْيَهُودِيِّ فَذَهَبَ الْيَهُودِيُّ إِلَی رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبَرَهُ بِمَا کَانَ مِنْ أَمْرِهِ وَأَمْرِ الْمُسْلِمِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا تُخَيِّرُونِي عَلَی مُوسَی فَإِنَّ النَّاسَ يَصْعَقُونَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ فَأَکُونُ فِي أَوَّلِ مَنْ يُفِيقُ فَإِذَا مُوسَی بَاطِشٌ بِجَانِبِ الْعَرْشِ فَلَا أَدْرِي أَکَانَ مُوسَی فِيمَنْ صَعِقَ فَأَفَاقَ قَبْلِي أَوْ کَانَ مِمَّنْ اسْتَثْنَی اللَّهُ

عبد العزیز بن عبداللہ سے روایت کرتے ہیں انہوں نے بیان کیا کہ دو آدمیوں نے ایک دوسرے کو برا بھلا کہا، ان میں سے ایک تو مسلمان تھا اور دوسرا یہودی تھا مسلمان نے کہا کہ قسم ہے اس ذات کی جس نے محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو تمام دنیا والوں پر فضیلت بخشی۔ یہودی نے کہا قسم ہے اس ذات کی جس نے موسیٰ علیہ السلام کو تمام دنیا والوں پر فضیلت بخشی، مسلمان کو اس پر غصہ آگیا اور یہودی کے چہرے پر طمانچہ کھینچ مارا۔ یہودی نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور آپ سے اپنا اور مسلمان کا معاملہ بیان کیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ مجھ کو موسیٰ علیہ السلام پر فضیلت نہ دو اس لئے کہ سب لوگ قیامت کے دن بیہوش ہو جائیں گے تو میں سب سے پہلے ہوش میں آؤں گا، اس وقت دیکھوں گا، کہ موسیٰ علیہ السلام عرش کا کنارہ پکڑے ہوئے ہیں۔ میں نہیں جانتا، کہ آیا موسیٰ علیہ السلام بیہوش ہو کر ہم سے پہلے ہوش میں آگئے، یا ان لوگوں میں سے ہوں گے جنہیں اللہ نے بیہوشی سے مستثنیٰ کردیا ہوگا۔

Narrated Abu Huraira:
Two men, a Muslim and a Jew, abused each other. The Muslim said, "By Him Who gave superiority to Muhammad over all the people." On that, the Jew said, "By Him Who gave superiority to Moses over all the people." The Muslim became furious at that and slapped the Jew in the face. The Jew went to Allah's Apostle and informed him of what had happened between him and the Muslim. Allah's Apostle said, "Don't give me superiority over Moses, for the people will fall unconscious on the Day of Resurrection and I will be the first to gain consciousness, and behold ! Moses will be there holding the side of Allah's Throne. I will not know whether Moses has been among those people who have become unconscious and then has regained consciousness before me, or has been among those exempted by Allah from falling unconscious."

یہ حدیث شیئر کریں