اگر محرم مر جائے تو اس کو خوشبو نہ لگانا
راوی: محمد بن قدامة , جریر , منصور , حکم , سعید بن جبیر , ابن عباس
أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ قُدَامَةَ قَالَ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ عَنْ مَنْصُورٍ عَنْ الْحَکَمِ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ وَقَصَتْ رَجُلًا مُحْرِمًا نَاقَتُهُ فَقَتَلَتْهُ فَأُتِيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ اغْسِلُوهُ وَکَفِّنُوهُ وَلَا تُغَطُّوا رَأْسَهُ وَلَا تُقَرِّبُوهُ طِيبًا فَإِنَّهُ يُبْعَثُ يُهِلُّ
محمد بن قدامہ، جریر، منصور، حکم، سعید بن جبیر، ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما فرماتے ہیں کہ ایک آدمی کی اونٹنی نے اس کی گردن توڑ دی اور وہ شخص مر گیا تو رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تشریف لائے اور ارشاد فرمایا تم اس کو غسل دے کر کفن دو اور اس کا سر نہ ڈھانکنا اور نہ تم اس کو خوشبو لگانا اس لئے کہ یہ شخص قیامت کے دن لبیک کہتا ہوا اٹھایا جائے گا۔
It was narrated that Ibn ‘Abbas said: “The she-camel of a man in Ihram broke his neck and killed him. He was brought to the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم and he said:
‘Wash him and shroud him, and do not cover his head, or bring any perfume near him, for he will be raised reciting Talbiyah,” (Sahih)
