سنن نسائی ۔ جلد دوم ۔ میقاتوں سے متعلق احادیث ۔ حدیث 764

اگر کسی محرم کو جوؤں کی وجہ سے تکلیف ہو تو کیا کرنا چاہیے؟

راوی: احمد بن سعید رباطی , عبدالرحمن بن عبداللہ , عمرو , ابن ابوقیس زبیر , ابن عدی , ابووائل , کعب بن عجرہ

أَخْبَرَنِي أَحْمَدُ بْنُ سَعِيدٍ الرِّبَاطِيُّ قَالَ أَنْبَأَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ وَهُوَ الدَّشْتَکِيُّ قَالَ أَنْبَأَنَا عَمْرٌو وَهُوَ ابْنُ أَبِي قَيْسٍ عَنْ الزُّبَيْرِ وَهُوَ ابْنُ عَدِيٍّ عَنْ أَبِي وَائِلٍ عَنْ کَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ قَالَ أَحْرَمْتُ فَکَثُرَ قَمْلُ رَأْسِي فَبَلَغَ ذَلِکَ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَتَانِي وَأَنَا أَطْبُخُ قِدْرًا لِأَصْحَابِي فَمَسَّ رَأْسِي بِإِصْبَعِهِ فَقَالَ انْطَلِقْ فَاحْلِقْهُ وَتَصَدَّقْ عَلَی سِتَّةِ مَسَاکِينَ

احمد بن سعید رباطی، عبدالرحمن بن عبد اللہ، عمرو، ابن ابوقیس زبیر، ابن عدی، ابووائل، کعب بن عجرہ فرماتے ہیں کہ میں نے احرام باندھا تو میرے سر کی جوئیں بہت زیادہ ہو گئیں جس وقت رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اس بات کا علم ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میرے پاس تشریف لائے اس وقت میں ساتھیوں کے واسطے دیگ پکا رہا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی انگلی سے میرا سر چھوا اور فرمایا جا کر سر منڈاؤ اور چھ مساکین کو صدقہ ادا کرو۔

It was narrated that Ka’b bin ‘Ujrah said: “I entered Ihram, then I had a severe infestation of head lice. News of that reached the Prophet صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم and he came to me when I was cooking something in a pot for my companions. He touched my head with his finger and said: ‘Go and shave it, and give charity to six poor persons.” (Sahih)

یہ حدیث شیئر کریں