صحیح بخاری ۔ جلد دوم ۔ جہاد اور سیرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ۔ حدیث 343

فتوحات کی بشارت دینے کا بیان

راوی: محمد بن مثنی یحیی اسماعیل قیس جریر بن عبد اللہ

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی حَدَّثَنَا يَحْيَی حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ قَالَ حَدَّثَنِي قَيْسٌ قَالَ قَالَ لِي جَرِيرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَلَا تُرِيحُنِي مِنْ ذِي الْخَلَصَةِ وَکَانَ بَيْتًا فِيهِ خَثْعَمُ يُسَمَّی کَعْبَةَ الْيَمَانِيَةِ فَانْطَلَقْتُ فِي خَمْسِينَ وَمِائَةٍ مِنْ أَحْمَسَ وَکَانُوا أَصْحَابَ خَيْلٍ فَأَخْبَرْتُ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنِّي لَا أَثْبُتُ عَلَی الْخَيْلِ فَضَرَبَ فِي صَدْرِي حَتَّی رَأَيْتُ أَثَرَ أَصَابِعِهِ فِي صَدْرِي فَقَالَ اللَّهُمَّ ثَبِّتْهُ وَاجْعَلْهُ هَادِيًا مَهْدِيًّا فَانْطَلَقَ إِلَيْهَا فَکَسَرَهَا وَحَرَّقَهَا فَأَرْسَلَ إِلَی النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُبَشِّرُهُ فَقَالَ رَسُولُ جَرِيرٍ لِرَسُولِ اللَّهِ يَا رَسُولَ اللَّهِ وَالَّذِي بَعَثَکَ بِالْحَقِّ مَا جِئْتُکَ حَتَّی تَرَکْتُهَا کَأَنَّهَا جَمَلٌ أَجْرَبُ فَبَارَکَ عَلَی خَيْلِ أَحْمَسَ وَرِجَالِهَا خَمْسَ مَرَّاتٍ قَالَ مُسَدَّدٌ بَيْتٌ فِي خَثْعَمَ

محمد بن مثنی یحیی اسماعیل قیس جریر بن عبداللہ سے روایت کرتے ہیں کہ رسالت مآب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھ سے فرمایا کہ تو ذی الخلصہ کو تباہ و برباد کرکے مجھے خوشخبری کیوں نہیں دیتا ذی الخصہ دراصل ایک مکان تھا جو بنو خثعم کا بنایا ہوا تھا اور وہ اسے کعبہ یمانیہ کہتے تھے میں بہادر ڈیڑھ سو گھوڑا سواروں کے ساتھ روانہ ہوا اور میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا کہ میں گھوڑے پر اچھی طرح جم کر نہیں بیٹھ سکتا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے سینہ کو تھپکا جس سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی مبارک انگلیوں کے نشانات کو میں نے اپنے سینہ پر دیکھا ہے پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اے اللہ جریر کو گھوڑے کی نشست پر ثبات عطا فرما اور اس کو ہدایت کرنے والا اور ہدایت یافتہ بنا دے پھر ہماری ٹولی اس بت خانہ کی طرف گئی اور اسے تھوڑ پھوڑ کر جلا ڈالا اور پھر رسالت مآب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں خوشخبری دینے کے لئے ایک قاصد روانہ کیا اور جریر کے اس قاصد نے دربار رسالت میں عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ! قسم ہے اس ذات کی جس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو حق کے ساتھ بھیجا ہے میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آنے سے پہلے اس بت خانہ کو خارشی اونٹ کی طرح چھوڑا ہے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بنو احمس اور ان کے سواروں کے لئے پانچ دفعہ برکت کی دعا مانگی مسدد نے کہا کہ ذی الخلصہ بنو خثعم کا بت خانہ تھا۔

Narrated Qais:
Jarir bin 'Abdullah said to me, "Allah's Apostle said to me, 'Won't you relieve me from Dhul-Khalasa?' Dhul-Khalasa was a house where the tribe of Khatham used to stay, and it used to be called Ka'bat-ul Yamaniya. So I proceeded with one hundred-and-fifty (men) from the tribe of Ahmas who were good cavalry. I informed the Prophet that I could not sit firm on horses, so he stroke me on the chest with his hand and I noticed his finger marks on my chest. He invoked, 'O Allah! Make him firm and a guiding and rightly-guided man." Jarir set out towards that place, dismantled and burnt it, and then sent the good news to Allah's Apostle . The messenger of Jarir said to Allah's Apostle. "O Allah's Apostle! By Him Who has sent you with the Truth, I did not come to you till it (i.e. the house) had been turned (black) like a scabby camel (covered with tar)." So the Prophet invokes Allah to Bless the horses of the men of Ahmas five times.

یہ حدیث شیئر کریں