صحیح بخاری ۔ جلد دوم ۔ جہاد اور سیرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ۔ حدیث 339

مال غنیمت میں خیانت کرنے کا بیان اور اللہ تعالیٰ کا فرمان جو شخص خیانت کرے گا تو بروز حشر اس چیز کو لاوے گا جس کی اس نے خیانت کی۔

راوی: مسدد یحیی ابوحبان ابوزرعہ ابوہریرہ

حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ حَدَّثَنَا يَحْيَی عَنْ أَبِي حَيَّانَ قَالَ حَدَّثَنِي أَبُو زُرْعَةَ قَالَ حَدَّثَنِي أَبُو هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَامَ فِينَا النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَکَرَ الْغُلُولَ فَعَظَّمَهُ وَعَظَّمَ أَمْرَهُ قَالَ لَا أُلْفِيَنَّ أَحَدَکُمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ عَلَی رَقَبَتِهِ شَاةٌ لَهَا ثُغَائٌ عَلَی رَقَبَتِهِ فَرَسٌ لَهُ حَمْحَمَةٌ يَقُولُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَغِثْنِي فَأَقُولُ لَا أَمْلِکُ لَکَ شَيْئًا قَدْ أَبْلَغْتُکَ وَعَلَی رَقَبَتِهِ بَعِيرٌ لَهُ رُغَائٌ يَقُولُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَغِثْنِي فَأَقُولُ لَا أَمْلِکُ لَکَ شَيْئًا قَدْ أَبْلَغْتُکَ وَعَلَی رَقَبَتِهِ صَامِتٌ فَيَقُولُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَغِثْنِي فَأَقُولُ لَا أَمْلِکُ لَکَ شَيْئًا قَدْ أَبْلَغْتُکَ أَوْ عَلَی رَقَبَتِهِ رِقَاعٌ تَخْفِقُ فَيَقُولُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَغِثْنِي فَأَقُولُ لَا أَمْلِکُ لَکَ شَيْئًا قَدْ أَبْلَغْتُکَ وَقَالَ أَيُّوبُ عَنْ أَبِي حَيَّانَ فَرَسٌ لَهُ حَمْحَمَةٌ

مسدد یحیی ابوحبان ابوزرعہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ ایک دفعہ رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم میں کھڑے ہو کر مال غنیمت میں خیانت کرنے کا تذکرہ کر کے اس کو بڑا بھاری گناہ ظاہر کر کے اور خیانت بڑا جرم بتا کر فرمایا مجھے قیامت کے دن کسی کو اس حالت میں دیکھنا محبوب نہیں کہ اس کی گردن پر میماتی ہوئی بکری سوار ہو اور اس کی گردن پر گھوڑا بیٹھا ہوا ہنہنا رہا ہو اور وہ کہے یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم امداد فرمائیے تو میں کہہ دونگا کہ تیرے لئے مجھے کوئی اختیار نہیں ہے میں نے تجھے حکم الٰہی پہنچا دیا تھا اور اس کی گردن پر لدا ہوا اونٹ بلبلا رہا ہو وہ کہے یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میری امداد فرمائیے تو میں کہہ دوں گا۔ میرے اختیار میں تیرے لئے کوئی چیز نہیں ہے اور اگر اس کی گردن پر سونا چاندی بلبلا رہے ہوں اور وہ مجھے کہے کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم امداد فرمائیے تو میں کہہ دوں گا تیرے لئے میرے اختیار میں کچھ نہیں ہے میں تو احکام الٰہی پہنچا چکا یا اس کی گردن پر کیڑے حرکت کر رہے ہوں اور وہ کہے یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ! میری فریاد رسی کیجئے تو میں کہوں گا تیرے لئے میں کوئی اختیار نہیں رکھتا میں تو تجھے احکام الٰہی پہنچا چکا ہوں ایوب نے ابوحبان کے واسطہ سے فرس لہ حمحمتہ کے الفاظ روایت کئے ہیں۔

Narrated Abu Huraira:
The Prophet got up amongst us and mentioned Al Ghulul, emphasized its magnitude and declared that it was a great sin saying, "Don't commit Ghulul for I should not like to see anyone amongst you on the Day of Ressurection, carrying over his neck a sheep that will be bleating, or carrying over his neck a horse that will be neighing. Such a man will be saying: 'O Allah's Apostle! Intercede with Allah for me,' and I will reply, 'I can't help you, for I have conveyed Allah's Message to you Nor should I like to see a man carrying over his neck, a camel that will be grunting. Such a man will say, 'O Allah's Apostle! Intercede with Allah for me, and I will say, 'I can't help you for I have conveyed Allah's Message to you,' or one carrying over his neck gold and silver and saying, 'O Allah's Apostle! Intercede with Allah for me,' and I will say, 'I can't help you for I have conveyed Allah's Message to you,' or one carrying clothes that will be fluttering, and the man will say, 'O Allah's Apostle! Intercede with Allah for me.' And I will say, 'I can't help you, for I have conveyed Allah's Message to you."

یہ حدیث شیئر کریں