حضرت عوف بن مالک اشجعی رضی اللہ عنہ کی مرویات
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ قَالَ حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ عَنْ يَزِيدَ بْنِ حَبِيبٍ عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ لَقِيطٍ عَنْ عَوْفِ بْنِ مَالِكٍ الْأَشْجَعِيِّ قَالَ دَخَلْتُ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سِتَّةِ نَفَرٍ أَوْ سَبْعَةٍ أَوْ ثَمَانِيَةٍ فَقَالَ لَنَا بَايِعُونِي فَقُلْنَا يَا نَبِيَّ اللَّهِ قَدْ بَايَعْنَاكَ قَالَ بَايِعُونِي فَبَايَعْنَاهُ فَأَخَذَ عَلَيْنَا بِمَا أَخَذَ عَلَى النَّاسِ ثُمَّ أَتْبَعَ ذَلِكَ كَلِمَةً خَفِيَّةً فَقَالَ لَا تَسْأَلُوا النَّاسَ شَيْئًا
حضرت عوف بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں چھ سات یا آٹھ آدمیوں کی ایک جماعت کے ساتھ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم سے فرمایا کہ مجھ سے بیعت کرو ہم نے عرض کیا کہ اے اللہ کے نبی ! ہم تو آپ کی بیعت کر چکے ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر وہی بات دہرائی چنانچہ ہم نے دوبارہ بیعت کر لی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم سے وہی عہد لیا جو عام لوگوں سے لیا تھا البتہ آخر میں آہستہ سے یہ بھی فرمایا تھا کہ لوگوں سے کسی چیز کا سوال نہ کرنا۔
