حضرت ابورافع رضی اللہ عنہ کی حدیثیں
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْخَطَّابِيُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ عَنْ عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ أَنَّ بُكَيْرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ حَدَّثَهُ عَنِ الْحَسَنِ بْنِ عَلِيِّ بْنِ أَبِي رَافِعٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ أَبِي رَافِعٍ قَالَ بَعَثَتْنِي قُرَيْشٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ فَلَمَّا رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَعَ فِي قَلْبِي الْإِسْلَامُ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ لَا أَرْجِعُ إِلَيْهِمْ قَالَ إِنِّي لَا أَخِيسُ بِالْعَهْدِ وَلَا أَخِيسُ الْبِرَّ وَارْجِعْ إِلَيْهِمْ فَإِنْ كَانَ فِي قَلْبِكَ الَّذِي فِيهِ الْآنَ فَارْجِعْ قَالَ بُكَيْرٌ وَأَخْبَرَنِي الْحَسَنُ أَنَّ أَبَا رَافِعٍ كَانَ قِبْطِيًّا
حضرت ابو رافع رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ قریش کے کچھ لوگوں نے مجھے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں بھیجا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھتے ہی اسلام میرے دل میں گھر کر گیا اور میں نے عرض کیا یا رسول اللہ ! صلی اللہ علیہ وسلم اب میں قریش کے پاس واپس نہیں جانا چاہتا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں خلاف عہد نہیں کرسکتا اور ایلچیوں کو اپنے پاس نہیں روک سکتا اس لئے اب تو تم واپس چلے جاؤ اگر تمہارے دل میں وہی ارادہ باقی رہے جو اب ہے تو پھر میرے پاس آجانا (چنانچہ میں ان کے پاس چلا گیا پھر واپس آکر بارگاہ نبوت میں حاضر ہوا اور مشرف با اسلام ہوگیا)
