مسنگ
حضرت فروہ بن مسیک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں بارگاہ نبوت میں حاضر ہوا اور عرض کیا یا رسول اللہ ! صلی اللہ علیہ وسلم کیا میں اپنی قوم کے پیچھے رہ جانے والوں سے قتال نہ کروں ان لوگوں کے ساتھ جو آگے بڑھ گئے ہیں ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیوں نہیں ! جب میں پیٹھ پھیر کر جانے لگا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے بلا کر فرمایا قتال کی بجائے ان لوگوں کو پہلے دعوت دینا جو اس پر لبیک کہے اسے قبول کر لینا اور جو لبیک نہ کہے اس کے متعلق جلد بازی نہ کرنا جب تک کہ مجھے بتا نہ دینا میں نے عرض کیا یا رسول اللہ ! صلی اللہ علیہ وسلم سبا کسی علاقے کا نام تھا یا کسی عورت کا؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا نہ وہ کسی علاقے کا نام ہے اور نہ کسی عورت کا، بلکہ یہ ایک آدمی کا نام ہے جس کا تعلق عرب سے تھا اور اس کے دس بیٹے تھے جن میں سے چار بائیں جانب چلے گئے اور چھ دائیں جانب بائیں جانب جانے والے عک ، لخم، عسان اور عاملہ تھے اور دائیں جانب والے ازد، کندہ ، مذحج، حمیر، اشعریین اور انمار ہیں سائل نے پوچھا یا رسول اللہ! صلی اللہ علیہ وسلم انمار سے کیا مراد ہے ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا وہ لوگ کہ خشم اور بجیلہ ان میں سے ہیں ۔
گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
