حضرت عتبان بن مالک رضی اللہ عنہ کی حدیثیں
حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ الْمُغِيرَةِ عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ الرَّبِيعِ عَنْ عِتْبَانَ بْنِ مَالِكٍ فَلَقِيتُ عِتْبَانَ بْنَ مَالِكٍ فَقُلْتُ مَا حَدِيثٌ بَلَغَنِي عَنْكَ قَالَ فَحَدِّثْنِي قَالَ كَانَ فِي بَصَرِي بَعْضُ الشَّيْءِ فَبَعَثْتُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقُلْتُ إِنِّي أُحِبُّ أَنْ تَجِيءَ إِلَى مَنْزِلِي تُصَلِّيَ فِيهِ فَأَتَّخِذَهُ مُصَلًّى قَالَ فَأَقْبَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَنْ شَاءَ مِنْ أَصْحَابِهِ قَالَ فَصَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي مَنْزِلِهِ وَأَصْحَابُهُ يَتَحَدَّثُونَ وَيَذْكُرُونَ الْمُنَافِقِينَ وَمَا يَلْقَوْنَ مِنْهُمْ وَيُسْنِدُونَ عِظَمَ ذَلِكَ إِلَى مَالِكِ بْنِ الدُّخَيْشِنِ وَوَدُّوا أَنْ لَوْ دَعَا عَلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَصَابَ شَرًّا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَلَيْسَ يَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَنِّي رَسُولُ اللَّهِ قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّهُ لَيَقُولُ ذَلِكَ وَمَا هُوَ فِي قَلْبِهِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يَشْهَدُ أَحَدٌ أَنَّهُ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَنِّي رَسُولُ اللَّهِ فَتَطْعَمَهُ النَّارُ أَوْ تَمَسَّهُ النَّارُ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ عَنِ الزُّهْرِيِّ حَدَّثَنِي مَحْمُودُ بْنُ الرَّبِيعِ عَنْ عِتْبَانَ بْنِ مَالِكٍ قَالَ أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقُلْتُ فَذَكَرَ نَحْوَهُ قَالَ ثُمَّ حَبَسْتُهُ عَلَى خَزِيرٍ لَنَا صَنَعْنَاهُ لَهُ فَسَمِعَ بِهِ أَهْلُ الْوَادِي يَعْنِي أَهْلَ الدَّارِ فَثَابُوا إِلَيْهِ حَتَّى امْتَلَأَ الْبَيْتُ فَقَالَ رَجُلٌ أَيْنَ مَالِكُ بْنُ الدُّخْشُنِ قَالَ وَرُبَّمَا قَالَ الدُّخَيْشِنِ
حضرت عتبان بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا یا رسول اللہ ! صلی اللہ علیہ وسلم میری قوم کی مسجد اور میرے درمیان سیلاب حائل ہو جاتا ہے آپ کسی وقت تشریف لا کر میرے گھر میں نماز پڑھ دیں تو میں اسے ہی اپنے لئے جائے نماز منتخب کر لوں ، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے ایسا کرنے کا وعدہ کر لیا چنانچہ ایک دن حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے ساتھ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لے آئے اور گھر میں داخل ہو کر فرمایا تم کس جگہ کو جائے نماز بنانا چاہتے ہو؟ میں نے گھرکے ایک کونے کی طرف اشارہ کر دیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوگئے ہم نے ان کے پیچھے صف بندی کر لی اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں دو رکعتیں پڑھائیں ہم نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو کھانے پر روک لیا انصار کے کانوں تک یہ بات پہنچی تو وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت کے لئے آنے لگے سارا گھر بھر گیا، ایک آدمی کہنے لگا کہ مالک بن دخشم کہاں ہے؟ دوسرے نے جواب دیا کہ وہ منافق ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ایسے نہ کہو وہ اللہ کی رضا کے لئے لا الہ الا اللہ پڑھتا ہے اس نے کہا کہ ہم تو یہی دیکھتے ہیں کہ اس کی توجہ اور باتیں منافقین کی طرف مائل ہوتی ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر وہی جملہ دہرایا دوسرے آدمی نے کہا کیوں نہیں یا رسول اللہ ! صلی اللہ علیہ وسلم اس پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص اللہ کی رضا کے لئے لا الہ الا اللہ کی گواہی دیتا ہوا قیامت کے دن آئےگا اللہ نے اس پر جہنم کی آگ کو حرام قرار دے دیا ہے۔
گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے ۔
