مسند احمد ۔ جلد نہم ۔ حدیث 3661

حضرت سلمہ بن صخربیاضی رضی اللہ عنہ کی حدیث

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِدْرِيسَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عَطَاءٍ عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ عَنْ سَلَمَةَ بْنِ صَخْرٍ الْبَيَاضِيِّ قَالَ كُنْتُ امْرَأً أُصِيبُ مِنْ النِّسَاءِ مَا لَا يُصِيبُ غَيْرِي قَالَ فَلَمَّا دَخَلَ شَهْرُ رَمَضَانَ خِفْتُ فَتَظَاهَرْتُ مِنْ امْرَأَتِي فِي الشَّهْرِ قَالَ فَبَيْنَمَا هِيَ تَخْدُمُنِي ذَاتَ لَيْلَةٍ إِذْ تَكَشَّفَ لِي مِنْهَا شَيْءٌ فَلَمْ أَلْبَثْ أَنْ وَقَعْتُ عَلَيْهَا فَأَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبَرْتُهُ فَقَالَ حَرِّرْ رَقَبَةً قَالَ قُلْتُ وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ مَا أَمْلِكُ رَقَبَةً غَيْرَ رَقَبَتِي قَالَ فَصُمْ شَهْرَيْنِ مُتَتَابِعَيْنِ فَقُلْتُ وَهَلْ أَصَابَنِي الَّذِي أَصَابَنِي إِلَّا مِنْ الصِّيَامِ قَالَ فَأَطْعِمْ سِتِّينَ مِسْكِينًا

حضرت سلمہ بن صخر بیاضی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں عورتوں کو بہت چاہتا تھا اور میں کسی مرد کو نہیں جانتا جو عورتوں سے اتنی صحبت کرتا ہو جیسے میں کرتا تھا ۔ خیر رمضان آیا تو میں نے اپنی بیوی سے ظہار کر لیا اخیر رمضان تک تاکہ رات کے وقت اس کے قریب نہ چلا جاؤں دن ہونے تک میں اسی طرح کرتا تھا اور اپنے اندر اتنی طاقت نہ پاتا تھا کہ اس سے مکمل جدا ہو جاؤں ایک رات میری بیوی میری خدمت کر رہی تہی کہ اس کی ران سے کپڑا اوپر ہوگیا میں اس سے صحبت کر بیٹھا جب صبح ہوئی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر سارا واقعہ بیان کر دیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تو ایک غلام آزاد کر میں نے کہا قسم اس کی جس نے آپ کو سچائی کےساتھ بھیجا میں تو بس اپنے ہی نفس کا مالک ہوں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اچھا! دو ماہ لگاتار روزے رکھ میں نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یہ جو بلا مجھ پر آئی یہ روزہ رکھنے ہی سے تو آئی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا صدقہ دے اور ساٹھ مساکین کو کھانا کھلا۔

یہ حدیث شیئر کریں