مسند احمد ۔ جلد نہم ۔ حدیث 3606

حضرت محمود بن لبید اور محمود بن ربیع رضی اللہ عنہما کی حدیثیں ۔

حَدَّثَنَا يَزِيدُ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدٌ يَعْنِي ابْنَ أَبِي عَمْرٍو عَنْ صَفْوَانَ بْنِ سُلَيْمٍ عَنْ مَحْمُودِ بْنِ لَبِيدٍ قَالَ لَمَّا نَزَلَتْ أَلْهَاكُمْ التَّكَاثُرُ فَقَرَأَهَا حَتَّى بَلَغَ لَتُسْأَلُنَّ يَوْمَئِذٍ عَنْ النَّعِيمِ قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ عَنْ أَيِّ نَعِيمٍ نُسْأَلُ وَإِنَّمَا هُمَا الْأَسْوَدَانِ الْمَاءُ وَالتَّمْرُ وَسُيُوفُنَا عَلَى رِقَابِنَا وَالْعَدُوُّ حَاضِرٌ فَعَنْ أَيِّ نَعِيمٍ نُسْأَلُ قَالَ إِنَّ ذَلِكَ سَيَكُونُ

حضرت محمود بن لبید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ سورت تکاثر نازل ہوئی اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے پڑھ کر سنایا تو جب " ثم لتسألن یومئذ عن النعیم" پر پہنچے تو لوگوں نے پوچھا یا رسول اللہ ! ہم سے کن نعمتوں کے متعلق پوچھا جائے گا؟ ہمارے پاس تو صرف پانی اور کھجوریں ہیں ہماری تلواریں ہماری گردنوں پر ہیں اور دشمن سامنے موجود ہے تو کون سی نعمتوں کے متعلق ہم سے پوچھا جائے گا؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ ہو کر رہے گا۔

یہ حدیث شیئر کریں