مسند احمد ۔ جلد نہم ۔ حدیث 3407

حضرت حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ کی مرویات

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ أَبِي التَّيَّاحِ قَالَ سَمِعْتُ صَخْرًا يُحَدِّثُ عَنْ سُبَيْعٍ قَالَ أَرْسَلُونِي مِنْ مَاءٍ إِلَى الْكُوفَةِ أَشْتَرِي الدَّوَابَّ فَأَتَيْنَا الْكُنَاسَةَ فَإِذَا رَجُلٌ عَلَيْهِ جَمْعٌ قَالَ فَأَمَّا صَاحِبِي فَانْطَلَقَ إِلَى الدَّوَابِّ وَأَمَّا أَنَا فَأَتَيْتُهُ فَإِذَا هُوَ حُذَيْفَةُ فَسَمِعْتُهُ يَقُولُ كَانَ أَصْحَابُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْأَلُونَهُ عَنْ الْخَيْرِ وَأَسْأَلُهُ عَنْ الشَّرِّ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ هَلْ بَعْدَ هَذَا الْخَيْرِ شَرٌّ كَمَا كَانَ قَبْلَهُ شَرٌّ قَالَ نَعَمْ قُلْتُ فَمَا الْعِصْمَةُ مِنْهُ قَالَ السَّيْفُ أَحْسَبُ أَبُو التَّيَّاحِ يَقُولُ السَّيْفُ أَحْسَبُ قَالَ قُلْتُ ثُمَّ مَاذَا قَالَ ثُمَّ تَكُونُ هُدْنَةٌ عَلَى دَخَنٍ قَالَ قُلْتُ ثُمَّ مَاذَا قَالَ ثُمَّ تَكُونُ دُعَاةُ الضَّلَالَةِ قَالَ فَإِنْ رَأَيْتَ يَوْمَئِذٍ خَلِيفَةَ اللَّهِ فِي الْأَرْضِ فَالْزَمْهُ وَإِنْ نَهَكَ جِسْمَكَ وَأَخَذَ مَالَكَ فَإِنْ لَمْ تَرَهُ فَاهْرَبْ فِي الْأَرْضِ وَلَوْ أَنْ تَمُوتَ وَأَنْتَ عَاضٌّ بِجِذْلِ شَجَرَةٍ قَالَ قُلْتُ ثُمَّ مَاذَا قَالَ ثُمَّ يَخْرُجُ الدَّجَّالُ قَالَ قُلْتُ فِيمَ يَجِيءُ بِهِ مَعَهُ قَالَ بِنَهَرٍ أَوْ قَالَ مَاءٍ وَنَارٍ فَمَنْ دَخَلَ نَهْرَهُ حُطَّ أَجْرُهُ وَوَجَبَ وِزْرُهُ وَمَنْ دَخَلَ نَارَهُ وَجَبَ أَجْرُهُ وَحُطَّ وِزْرُهُ قَالَ قُلْتُ ثُمَّ مَاذَا قَالَ لَوْ أَنْتَجْتَ فَرَسًا لَمْ تَرْكَبْ فَلُوَّهَا حَتَّى تَقُومَ السَّاعَةُ قَالَ شُعْبَةُ وَحَدَّثَنِي أَبُو بِشْرٍ فِي إِسْنَادٍ لَهُ عَنْ حُذَيْفَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا هُدْنَةٌ عَلَى دَخَنٍ قَالَ قُلُوبٌ لَا تَعُودُ عَلَى مَا كَانَتْ حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ حَدَّثَنِي أَبِي حَدَّثَنِي أَبُو التَّيَّاحِ حَدَّثَنِي صَخْرُ بْنُ بَدْرٍ الْعِجْلِيُّ عَنْ سُبَيْعِ بْنِ خَالِدٍ الضُّبَعِيِّ فَذَكَرَ مِثْلَ مَعْنَاهُ وَقَالَ وَحُطَّ أَجْرُهُ وَحُطَّ وِزْرُهُ قَالَ وَإِنْ نَهَكَ ظَهْرَكَ وَأَخَذَ مَالَكَ حَدَّثَنَا يُونُسُ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ عَنْ أَبِي التَّيَّاحِ عَنْ صَخْرٍ عَنْ سُبَيْعِ بْنِ خَالِدٍ الضُّبَعِيِّ فَذَكَرَهُ وَقَالَ وَإِنْ نَهَكَ ظَهْرَكَ وَأَكَلَ مَالَكَ وَقَالَ وَحُطَّ أَجْرُهُ وَحُطَّ وِزْرُهُ

سبیع کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ لوگوں نے مجھے جانور خریدنے کے لئے بھیج دیا ہم ایک حلقے میں پہنچے جہاں بہت سے لوگ ایک شخص کے پاس جمع تھے میرا ساتھی تو جانوروں کی طرف چلا گیا جبکہ میں اس آدمی کی طرف ، وہاں پہنچ کر معلوم ہوا کہ وہ حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ ہیں میں ان کے قریب گیا تو انہیں یہ کہتے ہوئے سنا کہ لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے خیرکے متعلق سوال کرتے تھے اور میں شرکے متعلق کیونکہ میں جانتا تھا کہ خیر مجھے چھوڑ کر آگے نہیں جاسکتی ایک دن میں نے بارگاہ رسالت میں عرض کیا یا رسول اللہ ! صلی اللہ علیہ وسلم کیا اس خیر کے بعد شر ہوگا ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا حذیفہ ! کتاب اللہ کو سیکھو اور اس کے احکام کی پیروی کرو (تین مرتبہ فرمایا میں نے پھر اپنا سوال دہرایا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا فتنہ اور شر ہوگا میں نے پوچھا یا رسول اللہ! صلی اللہ علیہ وسلم کیا اس خیر کے بعد شر ہوگا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے تین مرتبہ فرمایا حذیفہ رضی اللہ عنہ ! کتاب اللہ کو سیکھو اور اس کے احکام کی پروی کرو میں نے پوچھا یا رسول اللہ ! صلی اللہ علیہ وسلم کیا اس خیر کے بعد شر ہوگا ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا دھوئیں پر صلح قائم ہوگی اور گندگی پر اتفاق ہوگا میں نے عرض کیا یا رسول اللہ ! صلی اللہ علیہ وسلم دھوئیں پر صلح قائم ہونے سے کیا مراد ہے ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا لوگ اس صلح پر دل سے راضی نہیں ہوں گے۔
پھر میرے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے درمیان وہی سوال جواب ہوئے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ایک ایسا فتنہ آئے گا جو اندھا بہرا کر دے گا اس پر جہنم کے دروازوں کی طرف بلانے والے لوگ مقرر ہوں گے اے حذیفہ ! اگر تم اس حال میں مرو کہ تم نے کسی درخت کے تنے کو اپنے دانتوں تلے دبا رکھا ہو یہ اس سے بہتر ہوگا کہ تم ان میں سے کسی کی پیروی کرو۔ میں نے پوچھا پھر کیا ہوگا؟ فرمایا پھر دجال کا خروج ہوگا میں نے پوچھا اس کے ساتھ کیا چیز ہوگی؟ فرمایا اس کے ساتھ نہر یا پانی اور آگ ہوگی جو شخص اس کی نہر میں داخل ہو جائے گا اس کا اجر ضائع اور وبال پختہ ہو جائے گا اور جو شخص اس کی آگ میں داخل ہوگا اس کا اجر پختہ اور گناہ معاف ہو جائیں گے میں نے پوچھا پھر کیا ہوگا؟ فرمایا اگر تمہارے گھوڑے نے بچہ دیا تو اس کے بچے پر سوار ہونے کی نوبت نہیں آئے گی کہ قیامت قائم ہو جائے گی ۔
پھر میرے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے درمیان وہی سوال جواب ہوئے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ایک ایسا فتنہ آئے گا جو اندھا بہرا کر دے گا اس پر جہنم کے دروازوں کی طرف بلانے والے لوگ مقرر ہوں گے اے حذیفہ ! اگر تم اس حال میں مروکہ تم نے کسی درخت کے تنے کو اپنے دانتوں تلے دبا رکھا ہو یہ اس سے بہتر ہوگا کہ تم ان میں سے کسی کی پیروی کرو۔ میں نے پوچھا پھر کیا ہوگا؟ فرمایا پھر دجال کا خروج ہوگا میں نے پوچھا اس کے ساتھ کیا چیز ہوگی؟ فرمایا اس کے ساتھ نہر یا پانی اور آگ ہوگی جو شخص اس کی نہر میں داخل ہو جائے گا اس کا اجر ضائع اور وبال پختہ ہو جائے گا اور جو شخص اس کی آگ میں داخل ہوگا اس کا اجر پختہ اور گناہ معاف ہو جائیں گے میں نے پوچھا پھر کیا ہوگا؟ فرمایا اگر تمہارے گھوڑے نے بچہ دیا تو اس کے بچے پر سوار ہونے کی نوبت نہیں آئے گی کہ قیامت قائم ہو جائے گی ۔
گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے ۔

یہ حدیث شیئر کریں