مسند احمد ۔ جلد نہم ۔ حدیث 3157

متعدد صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی مرویات

حَدَّثَنَا بَهْزٌ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ قَالَ أَخْبَرَنَا أَبُو عِمْرَانَ قَالَ قُلْتُ لِجُنْدُبٍ إِنِّي بَايَعْتُ ابْنَ الزُّبَيْرِ عَلَى أَنْ أُقَاتِلَ أَهْلَ الشَّامِ قَالَ فَلَعَلَّكَ تُرِيدُ أَنْ تَقُولَ أَفْتَانِي جُنْدُبٌ أَوَأَفْتَانِي جُنْدَبٌ قَالَ قُلْتُ مَا أُرِيدُ ذَاكَ إِلَّا لِنَفْسِي قَالَ افْتَدِ بِمَالِكَ قُلْتُ إِنَّهُ لَا يُقْبَلُ مِنِّي قَالَ إِنِّي قَدْ كُنْتُ عَلَى عَهْدِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غُلَامًا حَزَوَّرًا وَإِنَّ فُلَانًا أَخْبَرَنِي أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ يَجِيءُ الْمَقْتُولُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مُتَعَلِّقًا بِالْقَاتِلِ فَيَقُولُ يَا رَبِّ سَلْهُ فِيمَ قَتَلَنِي فَيَقُولُ فِي مُلْكِ فُلَانٍ فَاتَّقِ اللَّهَ لَا تَكُونُ ذَلِكَ الرَّجُلَ

ابوعمران رحمتہ اللہ علیہ کہتے ہیں کہ میں نے جندب سے کہا کہ میں نے حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ سے بیعت کرلی ہے ، یہ لوگ چاہتے ہیں کہ میں بھی ان کے ساتھ شام چلوں ، جندب نے کہا مت جاؤ میں نے کہا کہ وہ مجھے ایسا کرنے نہیں دیتے ، انہوں نے کہا کہ مالی فدیہ دے کر بچ جاؤ میں نے کہا کہ وہ اس کے علاوہ کوئی بات ماننے کے لئے تیار نہیں کہ میں ان کے ساتھ چل کر تلوار کے جوہر دکھاؤں ، اس پر جندب کہنے لگے کہ فلاں آدمی نے مجھ سے یہ حدیث بیان کی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا قیامت کے دن مقتول اپنے قاتل کو لے کربارگاہ الٰہی میں حاضر ہو کر عرض کرے گا پروردگار! اس سے پوچھ کہ اس نے مجھے کس وجہ سے قتل کیا تھا ؟چنانچہ اللہ تعالیٰ اس سے پوچھے گا کہ تونے کس بناء پر اسے قتل کیا تھا ؟ وہ عرض کرے گا کہ فلاں شخص کی حکومت کی وجہ سے اس لئے تم اس سے بچو۔

یہ حدیث شیئر کریں