صحیح مسلم ۔ جلد اول ۔ نماز کا بیان ۔ حدیث 1096

سجدوں کے اعضا کے بیان اور بالوں اور کپڑوں کے موڑنے اور نماز میں جوڑا باندھنے سے روکنے کے بیان میں

راوی: عمرو بن سواد عامری عبداللہ بن وہب , عمرو بن حارث , بکیر , کریب

حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ سَوَّادٍ الْعَامِرِيُّ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ أَنَّ بُکَيْرًا حَدَّثَهُ أَنَّ کُرَيْبًا مَوْلَی ابْنِ عَبَّاسٍ حَدَّثَهُ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ أَنَّهُ رَأَی عَبْدَ اللَّهِ بْنَ الْحَارِثِ يُصَلِّي وَرَأْسُهُ مَعْقُوصٌ مِنْ وَرَائِهِ فَقَامَ فَجَعَلَ يَحُلُّهُ فَلَمَّا انْصَرَفَ أَقْبَلَ إِلَی ابْنِ عَبَّاسٍ فَقَالَ مَا لَکَ وَرَأْسِي فَقَالَ إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ إِنَّمَا مَثَلُ هَذَا مَثَلُ الَّذِي يُصَلِّي وَهُوَ مَکْتُوفٌ

عمرو بن سواد عامری عبداللہ بن وہب، عمرو بن حارث، بکیر، حضرت کریب رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما نے عبداللہ بن حارث کو سر کے پیچھے جوڑا باندھے نماز پڑھتے دیکھا تو وہ ان کو کھولنے کھڑے ہو گئے جب وہ نماز سے فارغ ہوئے تو ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما کی طرف متوجہ ہوئے اور کہا تم نے میرا سر کیوں چھیڑا تو ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما نے فرمایا اس لئے کیونکہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا اس طرح جوڑا باندھ کر نماز پڑھنے کی مثال ایسی ہے جیسے کوئی مشکیں باندھے نماز ادا کر رہا ہو۔

Abdullah b. Abbas reported that he saw 'Abdullah b. al-Harith observing the prayer and (his hair) was plaited behind his head. He ('Abdullah b. 'Abbas) stood up and unfolded them. While going back (from the prayer) he met Ibn 'Abbas and said to him: Why is it that you touched my head? He (Ibn 'Abbas) replied: (The man who observes prayer with plaited hair) is like one who prays with his hands tied behind.

یہ حدیث شیئر کریں