مسند احمد ۔ جلد نہم ۔ حدیث 3118

متعدد صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی مرویات

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ عَاصِمِ بْنِ كُلَيْبٍ عَنْ عِيَاضِ بْنِ مَرْثَدٍ أَوْ مَرْثَدِ بْنِ عِيَاضٍ عَنْ رَجُلٍ مِنْهُمْ أَنَّهُ سَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَخْبِرْنِي بِعَمَلٍ يُدْخِلُنِي الْجَنَّةَ قَالَ هَلْ مِنْ وَالِدَيْكَ مِنْ أَحَدٍ حَيٌّ قَالَ لَهُ مَرَّاتٍ قَالَ لَا قَالَ فَاسْقِ الْمَاءَ قَالَ كَيْفَ أَسْقِيهِ قَالَ اكْفِهِمْ آلَتَهُ إِذَا حَضَرُوهُ وَاحْمِلْهُ إِلَيْهِمْ إِذَا غَابُوا عَنْهُ

ایک آدمی نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا یا رسول اللہ ! (صلی اللہ علیہ وسلم) مجھے کسی ایسے عمل کے بارے میں بتائیے جو مجھے جنت میں داخل کروا دے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے پوچھا کیا تمہارے والدین میں سے کوئی حیات ہے ؟ اس نے کہا نہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا پھر تم لوگوں کو پانی پلایا کرو اس نے پوچھا وہ کس طرح ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا لوگ جب موجود ہوں تو ان کے پانی نکالنے کے برتن کی حفاظت کرو اور غیرموجود ہوں (بھولے سے چھوڑ کر چلے جائیں) تو ان کے پاس وہ اٹھا کر پہنچا دو۔

یہ حدیث شیئر کریں