مسند احمد ۔ جلد نہم ۔ حدیث 2637

حضرت ابوقتادہ انصاری رضی اللہ عنہ کی مرویات

حَدَّثَنَا سُرَيْجُ بْنُ النُّعْمَانِ حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ أَخْبَرَنَا ابْنُ الْحُصَيْنِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي قَتَادَةَ الْأَنْصَارِيُّ عَنْ أَبِيهِ أَبِي قَتَادَةَ قَالَ سِرْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَنَحْنُ فِي سَفَرٍ ذَاتَ لَيْلَةٍ فَقُلْنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ لَوْ عَرَّسْتَ بِنَا فَقَالَ إِنِّي أَخَافُ أَنْ تَنَامُوا عَنْ الصَّلَاةِ فَمَنْ يُوقِظُنَا لِلصَّلَاةِ فَقَالَ بِلَالٌ أَنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ فَعَرَّسَ بِالْقَوْمِ فَاضْطَجَعْنَا وَاسْتَنَدَ بِلَالٌ إِلَى رَاحِلَتِهِ فَغَلَبَتْهُ عَيْنَاهُ وَاسْتَيْقَظَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَدْ طَلَعَ حَاجِبُ الشَّمْسِ فَقَالَ يَا بِلَالُ أَيْنَ مَا قُلْتَ لَنَا قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ مَا أُلْقِيَتْ عَلَيَّ نَوْمَةٌ مِثْلُهَا فَقَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ قَبَضَ أَرْوَاحَكُمْ حِينَ شَاءَ وَرَدَّهَا عَلَيْكُمْ حِينَ شَاءَ ثُمَّ أَمَرَهُمْ فَانْتَشَرُوا لِحَاجَتِهِمْ وَتَوَضَّأَ فَارْتَفَعَتْ الشَّمْسُ فَصَلَّى بِهِمْ الْفَجْرَ

حضرت ابو قتادہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ہم لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک سفر پر روانہ ہوئے رات کے وقت ہم نے عرض کیا یا رسول اللہ! صلی اللہ علیہ وسلم اگر تھوڑی دیر کے لئے پڑاؤ کر لیں تو بہتر ہوگا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مجھے اندیشہ ہے کہ تم نماز کے وقت سوتے رہے تو ہمیں نماز کے لئے کون جگائے گا؟ حضرت بلال رضی اللہ عنہ نے عرض کیا یا رسول اللہ! صلی اللہ علیہ وسلم میں جگاؤں گا چنانچہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پڑاؤ کر لیا اور ہم سب لیٹ گئے حضرت بلال رضی اللہ عنہ بھی اپنی سواری سے ٹیک لگا کر بیٹھ گئے اور ان کی آنکھ بھی لگ گئی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی آنکھ اس وقت کھلی جب سورج طلوع ہوچکا تھا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت بلال رضی اللہ عنہ کو جگا کر فرمایا بلال! وہ بات کہاں گئی جو تم نے ہم سے کہی تھی ؟ انہوں نے عرض کیا یا رسول اللہ ! صلی اللہ علیہ وسلم اس ذات کی قسم جس نے آپ کو حق کے ساتھ بھیجا ہے مجھ پر ایسی نیند کبھی طاری نہیں ہوئی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ تعالیٰ نے تمہاری روحوں کو جب تک چاہا اپنے قبضے میں رکھا اور جب چاہا واپس لوٹا دیا پھر لوگوں کو حکم دیا تو وہ قضا حاجت کے لئے منتشر ہوگئے وضو کیا اور جب سورج بلند ہوگیا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں نماز فجر پڑھا دی۔

یہ حدیث شیئر کریں