مسند احمد ۔ جلد نہم ۔ حدیث 2631

حضرت ابوقتادہ انصاری رضی اللہ عنہ کی مرویات

حَدَّثَنَا عُبَيْدَةُ بْنُ حُمَيْدٍ حَدَّثَنِي عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ رُفَيْعٍ عَنْ مُجَاهِدٍ وَعَنِ ابْنِ أَبِي قَتَادَةَ عَنْ أَبِي قَتَادَةَ قَالَ كُنْتُ مَعَ نَفَرٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَكَانُوا مُحْرِمِينَ إِلَّا رَجُلًا وَاحِدًا فَبَصُرَ بِصَيْدٍ فَأَخَذَ سَوْطًا فَحَمَلَ عَلَيْهِ فَأَصَادَهُ فَأَكَلَ مِنْهُ وَأَكَلْنَا ثُمَّ تَزَوَّدْنَا مِنْهُ فَلَمَّا أَتَيْنَا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قُلْنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ فُلَانًا كَانَ مُحِلًّا أَوْ حَلَالًا فَأَصَابَ صَيْدًا وَإِنَّهُ أَكَلَ مِنْهُ وَأَكَلْنَا مَعَهُ وَمَعَنَا مِنْهُ قَالَ فَقَالَ لَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كُلُوا حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ حَدَّثَنِي أَبِي عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ حَدَّثَنِي مَعْبَدُ بْنُ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ عَنْ أَبِي قَتَادَةَ الْحَارِثِ بْنِ رِبْعِيٍّ قَالَ بَعَثَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى سَيْفِ الْبَحْرِ فِي بَعْضِ عُمَرِهِ إِلَى مَكَّةَ وَوَعَدَنَا أَنْ نَلْقَاهُ بِقُدَيْدٍ فَخَرَجْنَا وَمِنَّا الْحَلَالُ وَمِنَّا الْحَرَامُ قَالَ فَكُنْتُ حَلَالًا فَذَكَرَ الْحَدِيثَ قَالَ وَفِيهِ هَذِهِ الْعَضُدُ قَدْ شَوَيْتُهَا وَأَنْضَجْتُهَا وَأَطْيَبْتُهَا قَالَ فَهَاتِهَا قَالَ فَجِئْتُهُ بِهَا فَنَهَسَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ حَرَامٌ حَتَّى فَرَغَ مِنْهَا حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ حَدَّثَنَا أَبِي عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي سَلَمَةَ مَوْلَى بَنِي تَمِيمٍ عَنْ أَبِي مُحَمَّدٍ نَافِعٍ الْأَقْرَعِ مَوْلَى بَنِي غِفَارٍ عَنْ أَبِي قَتَادَةَ مِثْلَ حَدِيثِ مَعْبَدِ بْنِ كَعْبٍ لَمْ يَزِدْ وَلَمْ يَنْقُصْ

حضرت ابو قتادہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے چند صحابہ رضی اللہ عنہم کے ہمراہ تھا ان میں ایک آدمی کے علاوہ باقی سب محرم تھے اس آدمی کو ایک شکار نظر آیا اس نے اپنا کوڑا پکڑ کر اس پر حملہ کیا اور اسے شکار کر لیا پھر اس نے بھی اسے کھایا اور ہم نے بھی کھایا اور ہم نے اس میں سے کچھ زاد راہ کے طور پر بچا بھی لیا جب ہم لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پہنچے تو عرض کیا یا رسول اللہ ! صلی اللہ علیہ وسلم فلاں آدمی احرام کی حالت میں نہیں تھا اس نے شکار کیا جسے اس نے بھی کھایا اور ہم نے بھی اور اب بھی ہمارے پاس اس میں سے تھوڑا سا گوشت موجود ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم اسے کھا سکتے ہو۔
حضرت ابو قتادہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں اپنے کسی عمرے کے موقع پر" سیف البحر " کی طرف لشکر کے ساتھ روانہ فرمایا اور ہم سے یہ طے کر لیا کہ مقام " قدید " میں ملاقات ہوگی چنانچہ ہم روانہ ہوگئے ہم میں سے کچھ لوگ محرم اور کچھ غیر محرم تھے غیر محرموں میں میں بھی شامل تھا پھر انہوں نے مکمل حدیث ذکر کی اور فرمایا کہ اس میں سے یہ دستی بچی ہے جسے میں نے خوب اچھی طرح بھون کر پکایا ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اسے لے کر آؤ میں وہ لے کر حاضر خدمت ہوا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اسے دانتوں سے نوچ کر کھانے لگے (کہ یہ زود ہضم ہوتا ہے) جبکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم حالت احرام میں تھے یہاں تک کہ اس سے فارغ ہوگئے۔
گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔

یہ حدیث شیئر کریں