مسند احمد ۔ جلد نہم ۔ حدیث 2402

حضرت ثوبان رضی اللہ عنہ کی مرویات

حَدَّثَنَا حَسَنٌ وَحَجَّاجٌ قَالَا حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ حَدَّثَنَا أَبُو قَبِيلٍ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمُقْرِئَ يَقُولُ قَالَ حَجَّاجٌ عَنْ أَبِي قَبِيلٍ حَدَّثَنِي أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْجُبْلَانِيُّ أَنَّهُ سَمِعَ ثَوْبَانَ مَوْلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ مَا أُحِبُّ أَنَّ لِي الدُّنْيَا وَمَا فِيهَا بِهَذِهِ الْآيَةِ يَا عِبَادِيَ الَّذِينَ أَسْرَفُوا عَلَى أَنْفُسِهِمْ لَا تَقْنَطُوا مِنْ رَحْمَةِ اللَّهِ إِنَّ اللَّهَ يَغْفِرُ الذُّنُوبَ جَمِيعًا إِنَّهُ هُوَ الْغَفُورُ الرَّحِيمُ فَقَالَ رَجُلٌ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَمَنْ أَشْرَكَ فَسَكَتَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ قَالَ إِلَّا مَنْ أَشْرَكَ ثَلَاثَ مَرَّاتِ

حضرت ثوبان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ اس آیت کے بدلے میں مجھے دنیا و مافیہا بھی مل جائے تو مجھے پسند نہیں " یا عبادی الذین اسرفواعلی انفسہم ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔" ایک آدمی نے پوچھا یا رسول اللہ ! (صلی اللہ علیہ وسلم) شرک کرنے والے کا کیا حکم ہے؟ اس پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم خاموش ہوگئے پھر تھوڑی دیر بعد تین مرتبہ فرمایا سوائے مشرک کے۔

یہ حدیث شیئر کریں