مسند احمد ۔ جلد نہم ۔ حدیث 2334

حضرت ابوامامہ صدی بن عجلان ابن عمروبن وہب باہلی رضی اللہ عنہ کی مرویات

ایک دن ہم ایک دیہاتی کے پاس گئے اس نے ہماری خاطراپنی چادربچھائی اور دیرتک بیٹھارہاحتیٰ کہ میں نے چادرکے کنارے نکل کراس کی دائیں ابروپرلٹکتے ہوئے دیکھے تھوڑی دیربعدہم نے اس سے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کوئی سوال پوچھو،چنانچہ اس نے کہا کہ اے اللہ کے نبی ! جب ہمارے درمیان قرآن کے نسخے موجودہوں گے توہمارے درمیان سے علم کیسے اٹھالیاجائے گا جبکہ ہم خودبھی اس کے احکامات کوسیکھ چکے ہیں اور اپنی بیویوں ، بچوں اور خادموں کو بھی سکھاچکے ہیں ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپناسرمبارک اٹھایاتوچہرہ مبارک پر غصے کی وجہ سے سرخی چھاچکی تھی پھر فرمایا تیری ماں تجھے روئے ان یہودیوں اور عیسائیوں کے پاس بھی توآسمانی کتابوں کے مصاحف موجود ہیں لیکن اب وہ کسی ایک حرف سے بھی نہیں چمٹے ہوئے جوان کے انبیاء علیہم السلام لے کر آئے تھے یادرکھو! علم اٹھ جانے سے مرادیہ ہے کہ حاملین علم اٹھ جائیں گے تین مرتبہ فرمایا۔

حضرت ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ہم لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کسی جہاد میں نکلے تو ایک آدمی ایک غار کے پاس سے گذرا جہاں کچھ پانی بھی موجود تھا، اس کے دل میں خیال آیا کہ اسی غار میں مقیم ہو جائے اور وہاں موجود پانی سے اپنی زندگی کا سہارا قائم رکھے اور آس پاس موجود سبزیاں کھا لیا کرے اور دنیا سے گوشہ نشینی اختیار کر لے پھر اس نے سوچا کہ پہلے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر ان سے اس کا تذکرہ کر لوں اگر انہوں نے اجازت دے دی تو میں ایسا ہی کروں گا ورنہ نہیں کروں گا۔
چنانچہ وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا اے اللہ کے نبی ! میرا ایک غار کے پاس سے گذر ہوا جس میں میرے گذارے کے بقدر پانی اور سبزی موجود ہے میرے دل میں خیال پیدا ہوا کہ وہیں مقیم ہو جاؤں اور دنیا سے کنارہ کشی کرلوں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہودیت یا عیسائیت کے ساتھ نہیں بھیجا گیا مجھے تو صاف ستھرے دین حنیف کے ساتھ بھیجا گیا ہے اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) کی جان ہے اللہ کے راستہ میں ایک صبح یا شام کو نکلنا دنیا ومافیہا سے بہتر ہے اور تم میں سے کسی کا جہاد کی صف میں کھڑا ہونا ساٹھ سال کی نماز سے بہتر ہے ۔

یہ حدیث شیئر کریں