مسند احمد ۔ جلد نہم ۔ حدیث 2333

حضرت ابوامامہ صدی بن عجلان ابن عمروبن وہب باہلی رضی اللہ عنہ کی مرویات

حَدَّثَنَا أَبُو الْمُغِيرَةِ حَدَّثَنَا مُعَانُ بْنُ رِفَاعَةَ حَدَّثَنِي عَلِيُّ بْنُ يَزِيدَ حَدَّثَنِي الْقَاسِمُ مَوْلَى بَنِي يَزِيدَ عَنْ أَبِي أُمَامَةَ الْبَاهِلِيِّ قَالَ لَمَّا كَانَ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَوْمَئِذٍ مُرْدِفٌ الْفَضْلَ بْنَ عَبَّاسٍ عَلَى جَمَلٍ آدَمَ فَقَالَ يَا أَيُّهَا النَّاسُ خُذُوا مِنْ الْعِلْمِ قَبْلَ أَنْ يُقْبَضَ الْعِلْمُ وَقَبْلَ أَنْ يُرْفَعَ الْعِلْمُ وَقَدْ كَانَ أَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَسْأَلُوا عَنْ أَشْيَاءَ إِنْ تُبْدَ لَكُمْ تَسُؤْكُمْ وَإِنْ تَسْأَلُوا عَنْهَا حِينَ يُنَزَّلُ الْقُرْآنُ تُبْدَ لَكُمْ عَفَا اللَّهُ عَنْهَا وَاللَّهُ غَفُورٌ حَلِيمٌ قَالَ فَكُنَّا قَدْ كَرِهْنَا كَثِيرًا مِنْ مَسْأَلَتِهِ وَاتَّقَيْنَا ذَاكَ حِينَ أَنْزَلَ اللَّهُ عَلَى نَبِيِّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ فَأَتَيْنَا أَعْرَابِيًّا فَرَشَوْنَاهُ بِرِدَاءٍ قَالَ فَاعْتَمَّ بِهِ حَتَّى رَأَيْتُ حَاشِيَةَ الْبُرْدِ خَارِجَةً مِنْ حَاجِبِهِ الْأَيْمَنِ قَالَ ثُمَّ قُلْنَا لَهُ سَلْ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ فَقَالَ لَهُ يَا نَبِيَّ اللَّهِ كَيْفَ يُرْفَعُ الْعِلْمُ مِنَّا وَبَيْنَ أَظْهُرِنَا الْمَصَاحِفُ وَقَدْ تَعَلَّمْنَا مَا فِيهَا وَعَلَّمْنَا نِسَاءَنَا وَذَرَارِيَّنَا وَخَدَمَنَا قَالَ فَرَفَعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأْسَهُ وَقَدْ عَلَتْ وَجْهَهُ حُمْرَةٌ مِنْ الْغَضَبِ قَالَ فَقَالَ أَيْ ثَكِلَتْكَ أُمُّكَ هَذِهِ الْيَهُودُ وَالنَّصَارَى بَيْنَ أَظْهُرِهِمْ الْمَصَاحِفُ لَمْ يُصْبِحُوا يَتَعَلَّقُوا بِحَرْفٍ مِمَّا جَاءَتْهُمْ بِهِ أَنْبِيَاؤُهُمْ أَلَا وَإِنَّ مِنْ ذَهَابِ الْعِلْمِ أَنْ يَذْهَبَ حَمَلَتُهُ ثَلَاثَ مِرَارٍ

حضرت ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حجۃ الوداع کے موقع پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم خطبہ دینے کے لئے ایک گندمی رنگ کے اونٹ پر کھڑے ہوئے اس دن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ردیف حضرت فضل بن عباس رضی اللہ عنہ تھے اور فرمایا اے لوگو! علم حاصل کرو قبل اس کے کہ علم اٹھا لیا جائے اور قبل اس کے کہ علم قبض کر لیا جائے اور اللہ تعالیٰ نے یہ حکم نازل فرمایا ہے " اے اہل ایمان ! ان چیزوں کے متعلق سوال نہ کرو جن کی وضاحت اگر تمہارے سامنے کر دی جائے تو تمہیں ناگوار گذرے۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔" اس آیت کے نزول کے بعد ہم لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے بہت زیادہ سوالات کرنے کو اچھا نہیں سمجھتے تھے اور اس سے احتیاط کرتے تھے ۔
ایک دن ہم ایک دیہاتی کے پاس گئے اس نے ہماری خاطر اپنی چادر بچھائی اور دیر تک بیٹھا رہاحتیٰ کہ میں نے چادر کے کنارے نکل کر اس کی دائیں ابرو پر لٹکتے ہوئے دیکھے تھوڑی دیر بعد ہم نے اس سے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کوئی سوال پوچھو، چنانچہ اس نے کہا کہ اے اللہ کے نبی ! جب ہمارے درمیان قرآن کے نسخے موجود ہوں گے تو ہمارے درمیان سے علم کیسے اٹھا لیا جائے گا جبکہ ہم خود بھی اس کے احکامات کو سیکھ چکے ہیں اور اپنی بیویوں ، بچوں اور خادموں کو بھی سکھا چکے ہیں ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا سر مبارک اٹھایا تو چہرہ مبارک پر غصے کی وجہ سے سرخی چھا چکی تھی پھر فرمایا تیری ماں تجھے روئے ان یہودیوں اور عیسائیوں کے پاس بھی تو آسمانی کتابوں کے مصاحف موجود ہیں لیکن اب وہ کسی ایک حرف سے بھی نہیں چمٹے ہوئے جو ان کے انبیاء علیہم السلام لے کر آئے تھے یاد رکھو! علم اٹھ جانے سے مراد یہ ہے کہ حاملین علم اٹھ جائیں گے تین مرتبہ فرمایا۔

یہ حدیث شیئر کریں