حضرت ابوامامہ صدی بن عجلان ابن عمروبن وہب باہلی رضی اللہ عنہ کی مرویات
حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ حَدَّثَنِي عِكْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ الْيَمَامِيُّ عَنْ شَدَّادِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ أَبِي أُمَامَةَ قَالَ كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي مَجْلِسٍ فَجَاءَهُ رَجُلٌ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَصَبْتُ حَدًّا فَأَقِمْ عَلَيَّ كِتَابَ اللَّهِ قَالَ فَأُقِيمَتْ الصَّلَاةُ قَالَ فَصَلَّى بِنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمَّا فَرَغَ خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَتَبِعَهُ الرَّجُلُ وَتَبِعْتُهُ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَصَبْتُ حَدًّا فَأَقِمْ عَلَيَّ كِتَابَ اللَّهِ فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَلَيْسَ خَرَجْتَ مِنْ مَنْزِلِكَ تَوَضَّأْتَ فَأَحْسَنْتَ الْوُضُوءَ وَصَلَّيْتَ مَعَنَا قَالَ الرَّجُلُ بَلَى قَالَ فَإِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ قَدْ غَفَرَ لَكَ حَدَّكَ أَوْ ذَنْبَكَ
حضرت ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ہم لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی مجلس میں بیٹھے ہوئے تھے کہ ایک آدمی آیا اور کہنے لگا یا رسول اللہ ! صلی اللہ علیہ وسلم مجھ سے گناہ سرزد ہوگیا ہے لہٰذا مجھے کتاب اللہ کی روشنی میں سزا دے دیجئے اسی دوران نماز کھڑی ہوگئی ، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں نماز پڑھائی اور فراغت کے بعد جب واپس جانے لگے تو وہ آدمی بھی پیچھے پیچھے چلا گیا میں بھی اس کے پیچھے چلا گیا ، اس نے پھر اپنی بات دہرائی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا کیا ایسا نہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ پھر اللہ نے تمہارا گناہ معاف کر دیا ہے۔
