حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کی مرویات
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَنَا مَعْمَرٌ عَنْ أَيُّوبَ عَنْ حُمَيْدِ بْنِ هِلَالٍ الْعَدَوِيِّ عَنْ أَبِي بُرْدَةَ قَالَ قَدِمَ عَلَى أَبِي مُوسَى مُعَاذُ بْنُ جَبَلٍ بِالْيَمَنِ فَإِذَا رَجُلٌ عِنْدَهُ قَالَ مَا هَذَا قَالَ رَجُلٌ كَانَ يَهُودِيًّا فَأَسْلَمَ ثُمَّ تَهَوَّدَ وَنَحْنُ نُرِيدُهُ عَلَى الْإِسْلَامِ مُنْذُ قَالَ أَحْسَبُهُ شَهْرَيْنِ فَقَالَ وَاللَّهِ لَا أَقْعُدُ حَتَّى تَضْرِبُوا عُنُقَهُ فَضُرِبَتْ عُنُقُهُ فَقَالَ قَضَى اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَنَّ مَنْ رَجَعَ عَنْ دَيْنِهِ فَاقْتُلُوهُ أَوْ قَالَ مَنْ بَدَّلَ دَيْنَهُ فَاقْتُلُوهُ
حضرت بردہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ یمن میں حضرت ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کے پاس پہنچے وہاں ایک آدمی رسیوں سے بندھا ہوا نظر آیا تو حضرت معاذ رضی اللہ عنہ نے پوچھا کہ اس کا کیا ماجرا ہے؟ انہوں نے بتایا کہ یہ ایک یہودی تھا اس نے اسلام قبول کر لیا بعد میں اپنے ناپسندیدہ دین کی طرف لوٹ گیا اور دوبارہ یہودی ہوگیا ہم غالباً دو ماہ سے اسے اسلام کی طرف لانے کی کوشش کر رہے ہیں حضرت معاذ رضی اللہ عنہ نے فرمایا میں تو اس وقت تک نہیں بیٹھوں گا جب تک تم اسے قتل نہیں کر دیتے چنانچہ میں نے اسے قتل کر دیا پھر انہوں نے فرمایا کہ اللہ اور اس کے رسول کا فیصلہ یہی ہے کہ جو شخص اپنے دین سے پھر سے جائے اسے قتل کر دو۔
