مسند احمد ۔ جلد نہم ۔ حدیث 1988

حضرت ابوعبدالرحمن سفینہ رضی اللہ عنہ کی حدیثیں جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے آزاد کردہ غلام ہیں ۔

حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ حَدَّثَنَا شَرِيكٌ عَنْ عِمْرَانَ النَّخْلِيِّ عَنْ مَوْلًى لِأُمِّ سَلَمَةَ قَالَ كُنْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ فَانْتَهَيْنَا إِلَى وَادٍ قَالَ فَجَعَلْتُ أَعْبُرُ النَّاسَ أَوْ أَحْمِلُهُمْ قَالَ فَقَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا كُنْتَ الْيَوْمَ إِلَّا سَفِينَةً أَوْ مَا أَنْتَ إِلَّا سَفِينَةٌ قِيلَ لِشَرِيكٍ هُوَ سَفِينَةُ مَوْلَى أُمِّ سَلَمَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا

حضرت ام سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے ایک آزاد کردہ غلام سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کسی سفر میں تھا ہم ایک وادی میں پہنچے ، میں لوگوں کا سامان اٹھا کر اسے عبور کرنے لگا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا آج تو تم سفینہ (کشتی ) کا کام دے رہے ہو۔

یہ حدیث شیئر کریں