حضرت اشعث بن قیس کندی رضی اللہ عنہ کی مرویات
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ حَدَّثَنَا الْحَارِثُ بْنُ سُلَيْمَانَ حَدَّثَنَا كُرْدُوسٌ عَنِ الْأَشْعَثِ بْنِ قَيْسٍ أَنَّ رَجُلًا مِنْ كِنْدَةَ وَرَجُلًا مِنْ حَضْرَمَوْتَ اخْتَصَمَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي أَرْضٍ بِالْيَمَنِ فَقَالَ الْحَضْرَمِيُّ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَرْضِي اغْتَصَبَهَا هَذَا وَأَبُوهُ فَقَالَ الْكِنْدِيُّ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَرْضِي وَرِثْتُهَا مِنْ أَبِي فَقَالَ الْحَضْرَمِيُّ يَا رَسُولَ اللَّهِ اسْتَحْلِفْهُ أَنَّهُ مَا يَعْلَمُ أَنَّهَا أَرْضِي وَأَرْضُ وَالِدِي وَالَّذِي اغْتَصَبَهَا أَبُوهُ فَتَهَيَّأَ الْكِنْدِيُّ لِلْيَمِينِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّهُ لَا يَقْتَطِعُ عَبْدٌ أَوْ رَجُلٌ بِيَمِينِهِ مَالًا إِلَّا لَقِيَ اللَّهَ يَوْمَ يَلْقَاهُ وَهُوَ أَجْذَمُ فَقَالَ الْكِنْدِيُّ هِيَ أَرْضُهُ وَأَرْضُ وَالِدِهِ
حضرت اشعث رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ قبیلہ کندہ اور حضر موت کا ایک آدمی یمن کی ایک زمین کے بارے میں اپنا جھگڑا لے کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے ، حضرمی کہنے لگا یا رسول اللہ ! صلی اللہ علیہ وسلم اس نے اور اس کے باپ نے مل کر میری زمین غصب کرلی ہے کندی کہنے لگا یا رسول اللہ ! صلی اللہ علیہ وسلم وہ میری زمین ہے جو مجھے وراثت میں اپنے باپ سے ملی ہے ، حضرمی کہنے لگا یا رسول اللہ! صلی اللہ علیہ وسلم اس سے اس بات پر قسم لے لیجئے کہ اسے یہ معلوم نہیں کہ یہ میری اور میرے والد کی زمین ہے جسے اس کے باپ نے غصب کیا تھا ، کندی قسم کھانے کے لئے تیار ہوا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص اپنی قسم کے ذریعے کوئی مال حاصل کرتا ہے وہ قیامت کے دن اللہ سے اس حال میں ملاقات کرے گا کہ وہ جذام میں مبتلا ہوگا یہ سن کر کندی کہنے لگا کہ یہ زمین اسی کی ہے اور اس کے والد کی ہے۔
