مسند احمد ۔ جلد نہم ۔ حدیث 1904

حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ کی مرویات

حَدَّثَنَا يَحْيَى عَنْ سُفْيَانَ حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ عُقْبَةَ عَنْ كُرَيْبٍ عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمَّا دَفَعَ أَوْ أَفَاضَ مِنْ عَرَفَةَ فَأَتَى النَّقْبَ الَّذِي يَنْزِلُهُ الْأُمَرَاءُ وَالْخُلَفَاءُ قَالَ فَبَالَ فَأَتَيْتُهُ بِمَاءٍ فَتَوَضَّأَ وُضُوءًا حَسَنًا بَيْنَ الْوُضُوءَيْنِ ثُمَّ رَكِبَ رَاحِلَتَهُ قُلْتُ الصَّلَاةَ يَا نَبِيَّ اللَّهِ قَالَ الصَّلَاةُ أَمَامَكَ قَالَ فَأَتَى جَمْعًا فَأَقَامَ فَصَلَّى الْمَغْرِبَ ثُمَّ لَمْ يَحُلَّ بَقِيَّةُ النَّاسِ حَتَّى أَقَامَ فَصَلَّى الْعِشَاءَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ وَالثَّوْرِيُّ عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عُقْبَةَ عَنْ كُرَيْبٍ عَنْ أُسَامَةَ قَالَ خَرَجْنَا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ عَرَفَةَ فَلَمَّا بَلَغَ قَالَ مَعْمَرٌ الشِّعْبَ وَقَالَ الثَّوْرِيُّ النَّقْبَ فَذَكَرَ مَعْنَاهُ

حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم عرفات سے روانہ ہوئے اور اس گھاٹی میں پہنچے جہاں لوگ اپنی سواریوں کو بٹھایا کرتے تھے ، نبی کریم نے بھی وہاں اپنی اونٹنی کو بٹھایا پھرپیشاب کیا اور پانی سے استنجاء کیا پھر وضو کا پانی منگوا کر وضو کیا جو بہت زیادہ مبالغہ آمیز نہتھا، میں نے عرض کیا یا رسول اللہ! نماز کا وقت ہوگیاہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا نماز تمہارے آگے ہے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی سواری پر سوار ہو کرمزدلفہ پہنچے وہاں مغرب کی نماز پڑھی پھر لوگوں نے اپنے اپنے مقام پر سواریوں کو بٹھایا اور ابھی سامان کھولنے نہیں پائے تھے کہ نماز عشاء کھڑی ہوگئی ، نماز پڑھی اور ان دونوں کے درمیان کوئی نماز نہیں پڑھی ۔
گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے ۔

یہ حدیث شیئر کریں