مسند احمد ۔ جلد نہم ۔ حدیث 1418

حضرت ابوذرغفاری رضی اللہ عنہ کی مرویات

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ عَنْ أَيُّوبَ عَنْ أَبِي الْعَالِيَةِ قَالَ أَخَّرَ عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ زِيَادٍ الصَّلَاةَ فَسَأَلْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ الصَّامِتِ فَضَرَبَ فَخِذِي قَالَ سَأَلَتُ خَلِيلِي أَبَا ذَرٍّ فَضَرَبَ فَخِذِي وَقَالَ سَأَلْتُ خَلِيلِي يَعْنِي النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ صَلِّ الصَّلَاةَ لِمِيقَاتِهَا فَإِنْ أَدْرَكْتَ فَصَلِّ مَعَهُمْ وَلَا تَقُولَنَّ إِنِّي قَدْ صَلَّيْتُ فَلَا أُصَلِّي

ابوالعالیہ رحمتہ اللہ علیہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ عبیداللہ بن زیاد نے کسی نماز کو اس کے وقت سے مؤخر کر دیا میں نے عبداللہ بن صامت رحمتہ اللہ علیہ سے اس کے متعلق پوچھا تو انہوں نے میری ران پر ہاتھ مار کر کہا کہ یہی سوال میں نے اپنے دوست حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ سے پوچھا تھا تو انہوں نے میری ران پر ہاتھ مار کر فرمایا کہ یہی سوال میں نے اپنے خلیل (صلی اللہ علیہ وسلم ) سے کیا تو انہوں نے فرمایا کہ نماز تو اپنے وقت پر پڑھ لیا کرو اگر ان لوگوں کے ساتھ شریک ہونا پڑے تو دوبارہ ان کے ساتھ (نفل کی نیت سے ) نماز پڑھ لیا کرو یہ نہ کہا کرو کہ میں تو نماز پڑھ چکا ہوں لہٰذا اب نہیں پڑھتا۔

یہ حدیث شیئر کریں