مسند احمد ۔ جلد نہم ۔ حدیث 1354

وہ حدیثیں جو ابوالعالیہ ریاحی نے ان سے نقل کی ہیں ۔

حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ حَدَّثَنَا أَبُو صَالِحٍ هَدِيَّةُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ الْمَرْوَزِيُّ حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ مُوسَى حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ عُبَيْدٍ عَنْ الرَّبِيعِ بْنِ أَنَسٍ عَنْ أَبِي الْعَالِيَةِ عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ قَالَ لَمَّا كَانَ يَوْمُ أُحُدٍ قُتِلَ مِنْ الْأَنْصَارِ أَرْبَعَةٌ وَسِتُّونَ رَجُلًا وَمِنْ الْمُهَاجِرِينَ سِتَّةٌ فَقَالَ أَصْحَابُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَئِنْ كَانَ لَنَا يَوْمٌ مِثْلُ هَذَا مِنْ الْمُشْرِكِينَ لَنُرْبِيَنَّ عَلَيْهِمْ فَلَمَّا كَانَ يَوْمُ الْفَتْحِ قَالَ رَجُلٌ لَا يُعْرَفُ لَا قُرَيْشَ بَعْدَ الْيَوْمِ فَنَادَى مُنَادِي رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمِنَ الْأَسْوَدُ وَالْأَبْيَضُ إِلَّا فُلَانًا وَفُلَانًا نَاسًا سَمَّاهُمْ فَأَنْزَلَ اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى وَإِنْ عَاقَبْتُمْ فَعَاقِبُوا بِمِثْلِ مَا عُوقِبْتُمْ بِهِ وَلَئِنْ صَبَرْتُمْ لَهُوَ خَيْرٌ لِلصَّابِرِينَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَصْبِرُ وَلَا نُعَاقِبُ

حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ غزوہ احد کے موقع پر انصار کے ٦٤ اور مہاجرین کے چھ آدمی شہید ہوئے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کہنے لگے کہ آج کے بعد مشرکین کے ساتھ جنگ کا کوئی ایسا موقع دوبارہ آیا تو ہم سود سمیت اس کا بدلہ لیں گے چنانچہ فتح مکہ کے دن ایک غیر معروف آدمی کہنے لگا آج کے بعد قریش نہیں رہیں گے اس پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے منادی نے یہ اعلان کر دیا کہ ہر سیاہ و سفید کو امن دیا جاتا ہے سوائے فلاں فلاں آدمی کے جن کا نام نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بتا دیا تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی اگر تم بدلہ لینا چاہتے ہو تو اتنی سزا دو جتنی تمہیں تکلیف دی گئی ہے اور اگر تم صبر کرو تو یہ صبر کرنے والوں کے لئے بہت عمدہ چیز ہے" اس پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہم صبر کریں گے اور بدلہ نہیں لیں گے "۔

یہ حدیث شیئر کریں