مسند احمد ۔ جلد نہم ۔ حدیث 1337

وہ روایات جوزربن حبیش رضی اللہ عنہ نے ان سے نقل کی ہیں ۔

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَيُّوبَ حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ عَنْ عَاصِمٍ عَنْ زِرٍّ قَالَ أَتَيْتُ الْمَدِينَةَ فَدَخَلْتُ الْمَسْجِدَ فَإِذَا أَنَا بِأُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ فَأَتَيْتُهُ فَقُلْتُ يَرْحَمُكَ اللَّهُ أَبَا الْمُنْذِرِ اخْفِضْ لِي جَنَاحَكَ وَكَانَ امْرَأً فِيهِ شَرَاسَةٌ فَسَأَلْتُهُ عَنْ لَيْلَةِ الْقَدْرِ فَقَالَ لَيْلَةُ سَبْعٍ وَعِشْرِينَ قُلْتُ أَبَا الْمُنْذِرِ أَنَّى عَلِمْتَ ذَلِكَ قَالَ بِالْآيَةِ الَّتِي أَخْبَرَنَا بِهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَعَدَدْنَا وَحَفِظْنَا وَآيَةُ ذَلِكَ أَنْ تَطْلُعَ الشَّمْسُ فِي صَبِيحَتِهَا مِثْلَ الطَّسْتِ لَا شُعَاعَ لَهَا حَتَّى تَرْتَفِعَ

زر کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں مدینہ منورہ حاضر ہوا مسجد نبوی میں داخل ہوا تو حضرت ابی بن کعب سے ملاقات ہوگئی میں نے عرض کیا اے ابو المنذر! اللہ تعالیٰ کی رحمتیں ان پر نازل ہوں مجھ پر شفقت فرمائیے دراصل آپ کے مزاج میں تھوڑی سی سختی تھی ، میں نے ان سے شب قدر کے متعلق پوچھا تو انہوں نے ستائیسویں شب کو قرار دیا میں نے عرض کیا کیا (اے ابوالمنذر! ) آپ کو کیسے پتہ چلتا ہے؟ فرمایا اس علامت سے جو ہمیں بتائی گئی ہے کہ اس رات کی صبح کو جب سورج طلوع ہوتا ہے تو اس کی شعاع نہیں ہوتی۔

یہ حدیث شیئر کریں