مسند احمد ۔ جلد نہم ۔ حدیث 756

نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے سواری پر بیٹھنے والے صحابی کی روایت۔

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنْ عَاصِمٍ عَنْ أَبِي تَمِيمَةَ الْهُجَيْمِيِّ عَمَّنْ كَانَ رَدِيفَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ كُنْتُ رَدِيفَهُ عَلَى حِمَارٍ فَعَثَرَ الْحِمَارُ فَقُلْتُ تَعِسَ الشَّيْطَانُ فَقَالَ لِي النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا تَقُلْ تَعِسَ الشَّيْطَانُ فَإِنَّكَ إِذَا قُلْتَ تَعِسَ الشَّيْطَانُ تَعَاظَمَ الشَّيْطَانُ فِي نَفْسِهِ وَقَالَ صَرَعْتُهُ بِقُوَّتِي فَإِذَا قُلْتَ بِسْمِ اللَّهِ تَصَاغَرَتْ إِلَيْهِ نَفْسُهُ حَتَّى يَكُونَ أَصْغَرَ مِنْ ذُبَابٍ

ایک صحابی سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے گدھے پر سوار تھا اچانگ گدھا بدک گیا میرے منہ سے نکل گیا کہ شیطان برباد ہو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ نہ کہو کیونکہ جب تم یہ جملہ کہتے ہو تو شیطان اپنے آپ کو بہت بڑا سمجھتا ہے اور کہتا ہے کہ میں نے اسے اپنی طاقت سے پچھاڑا ہے اور جب تم بسم اللہ کہو گے تو وہ اپنی نظروں میں اتنا حقیر ہوجائے گا کہ مکھی سے بھی چھوٹا ہوجائے گا۔

یہ حدیث شیئر کریں