مسند احمد ۔ جلد نہم ۔ حدیث 705

حضرت مالک بن حویرث کی بقیہ حدیثیں۔

حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا أَبَانُ الْعَطَّارُ حَدَّثَنَا بُدَيْلُ بْنُ مَيْسَرَةَ حَدَّثَنَا أَبُو عَطِيَّةَ مَوْلًى مِنَّا عَنْ مَالِكِ بْنِ الْحُوَيْرِثِ قَالَ كَانَ يَأْتِينَا فِي مُصَلَّانَا فَلَمَّا أُقِيمَتْ الصَّلَاةُ قِيلَ لَهُ تَقَدَّمْ فَصَلِّهْ قَالَ لِيُصَلِّ بَعْضُكُمْ حَتَّى أُحَدِّثَكُمْ لِمَ لَا أُصَلِّي بِكُمْ فَلَمَّا صَلَّى الْقَوْمُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا زَارَ أَحَدُكُمْ قَوْمًا فَلَا يُصَلِّيَنَّ بِهِمْ يُصَلِّي بِهِمْ رَجُلٌ مِنْهُمْ

ابوعطیہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت مالک بن حویرث ہماری مسجد میں تشریف لائے نماز کھڑی ہوئی تو لوگوں نے ان سے امامت کی درخواست کی انہوں نے انکار کردیا اور فرمایا کہ تم میں سے کوئی آدمی نماز پڑھائے۔ (بعد میں میں تمہیں ایک حدیث سناؤں گا کہ میں تم کو نماز کیوں نہیں پڑھارہا) نماز سے فارغ ہونے کے بعد کہ جناب رسول اللہ نے ارشاد فرمایا جب کوئی شخص کسی قوم سے ملنے جائے تو وہ ان کی امامت نہ کرے بلکہ ان ہی کا کوئی آدمی انہیں نماز پڑھائے۔

یہ حدیث شیئر کریں