مسند احمد ۔ جلد نہم ۔ حدیث 659

حضرت ابوبکرہ نفیع بن حارث بن کلدہ کی مرویات۔

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا سَعِيدٌ وَعَبْدُ الْوَهَّابِ عَنْ سَعِيدٍ عَنْ قَتَادَةَ عَنِ الْحَسَنِ عَنْ أَبِي بَكْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا يَقُولَنَّ أَحَدُكُمْ إِنِّي قُمْتُ رَمَضَانَ كُلَّهُ قَالَ فَاللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى أَعْلَمُ أَخَشِيَ عَلَى أُمَّتِهِ أَنْ تُزَكِّيَ أَنْفُسَهَا قَالَ عَبْدُ الْوَهَّابِ فَاللَّهُ أَعْلَمُ أَخَشِيَ التَّزْكِيَةَ عَلَى أُمَّتِهِ أَوْ قَالَ لَا بُدَّ مِنْ نَوْمٍ أَوْ غَفْلَةٍ

حضرت ابوبکرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا تم میں سے کوئی شخص یہ نہ کہے کہ میں نے سارے رمضان قیام کیا اب اللہ زیادہ بہتر جانتا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنی امت کے متعلق خود ہی اپنی پاکیزگی بیان کرنے میں اندیشہ ہوا یا اس وجہ سے فرمایا کہ ننید اور غفلت سے بھی تو کوئی چھٹکارا نہیں ہے۔

یہ حدیث شیئر کریں