مسند احمد ۔ جلد نہم ۔ حدیث 489

حضرت معقل بن یسار رضی اللہ تعالیٰ عنہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی مرویات۔

حَدَّثَنَا عَارِمٌ حَدَّثَنَا مُعْتَمِرٌ عَنْ أَبِيهِ عَنْ رَجُلٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ مَعْقِلِ بْنِ يَسَارٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ الْبَقَرَةُ سَنَامُ الْقُرْآنِ وَذُرْوَتُهُ نَزَلَ مَعَ كُلِّ آيَةٍ مِنْهَا ثَمَانُونَ مَلَكًا وَاسْتُخْرِجَتْ لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ الْحَيُّ الْقَيُّومُ مِنْ تَحْتِ الْعَرْشِ فَوُصِلَتْ بِهَا أَوْ فَوُصِلَتْ بِسُورَةِ الْبَقَرَةِ وَيس قَلْبُ الْقُرْآنِ لَا يَقْرَؤُهَا رَجُلٌ يُرِيدُ اللَّهَ تَبَارَكَ وَتَعَالَى وَالدَّارَ الْآخِرَةَ إِلَّا غُفِرَ لَهُ وَاقْرَءُوهَا عَلَى مَوْتَاكُمْ

حضرت معقل بن یسار رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا سورت بقرہ قرآن کریم کا کوہان اور اس کی بلندی ہے اس کی ہر آیت کے ساتھ اسی فرشتے نازل ہوئے اور آیت الکرسی عرش کے نیچے سے نکال کر لائی گئی جسے بعد میں سورت بقرہ سے ملا دیا گیا اور سورت یسین قرآن کریم کا دل ہے جو شخص بھی اسے اللہ کو اور راہ آخرت کو حاصل کرنے کے لئے بڑھتا ہے اس کی بخشش کردی جاتی ہے اور اسے اپنے مردوں پر پڑھا کرو۔

یہ حدیث شیئر کریں