حضرت معاویہ بن حیدہ رضی اللہ عنہ کی مرویات
حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ أَخْبَرَنَا أَبُو قَزَعَةَ الْبَاهِلِيُّ عَنْ حَكِيمِ بْنِ مُعَاوِيَةَ عَنْ أَبِيهِ قَالَ أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقُلْتُ مَا أَتَيْتُكَ حَتَّى حَلَفْتُ عَدَدَ أَصَابِعِي هَذِهِ أَنْ لَا آتِيَكَ أَرَانَا عَفَّانُ وَطَبَّقَ كَفَّيْهِ فَبِالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ مَا الَّذِي بَعَثَكَ بِهِ قَالَ الْإِسْلَامُ قَالَ وَمَا الْإِسْلَامُ قَالَ أَنْ يُسْلِمَ قَلْبُكَ لِلَّهِ تَعَالَى وَأَنْ تُوَجِّهَ وَجْهَكَ إِلَى اللَّهِ تَعَالَى وَتُصَلِّيَ الصَّلَاةَ الْمَكْتُوبَةَ وَتُؤَدِّيَ الزَّكَاةَ الْمَفْرُوضَةَ أَخَوَانِ نَصِيرَانِ لَا يَقْبَلُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ مِنْ أَحَدٍ تَوْبَةً أَشْرَكَ بَعْدَ إِسْلَامِهِ قُلْتُ مَا حَقُّ زَوْجَةِ أَحَدِنَا عَلَيْهِ قَالَ تُطْعِمُهَا إِذَا طَعِمْتَ وَتَكْسُوهَا إِذَا اكْتَسَيْتَ وَلَا تَضْرِبْ الْوَجْهَ وَلَا تُقَبِّحْ وَلَا تَهْجُرْ إِلَّا فِي الْبَيْتِ قَالَ تُحْشَرُونَ هَاهُنَا وَأَوْمَأَ بِيَدِهِ إِلَى نَحْوِ الشَّامِ مُشَاةً وَرُكْبَانًا وَعَلَى وُجُوهِكُمْ تُعْرَضُونَ عَلَى اللَّهِ تَعَالَى وَعَلَى أَفْوَاهِكُمْ الْفِدَامُ وَأَوَّلُ مَا يُعْرِبُ عَنْ أَحَدِكُمْ فَخِذُهُ وَقَالَ مَا مِنْ مَوْلًى يَأْتِي مَوْلًى لَهُ فَيَسْأَلُهُ مِنْ فَضْلٍ عِنْدَهُ فَيَمْنَعُهُ إِلَّا جَعَلَهُ اللَّهُ تَعَالَى عَلَيْهِ شُجَاعًا يَنْهَسُهُ قَبْلَ الْقَضَاءِ قَالَ عَفَّانُ يَعْنِي بِالْمَوْلَى ابْنَ عَمِّهِ قَالَ وَقَالَ إِنَّ رَجُلًا مِمَّنْ كَانَ قَبْلَكُمْ رَغَسَهُ اللَّهُ تَعَالَى مَالًا وَوَلَدًا حَتَّى ذَهَبَ عَصْرٌ وَجَاءَ آخَرُ فَلَمَّا احْتُضِرَ قَالَ لِوَلَدِهِ أَيَّ أَبٍ كُنْتُ لَكُمْ قَالُوا خَيْرَ أَبٍ فَقَالَ هَلْ أَنْتُمْ مُطِيعِيَّ وَإِلَّا أَخَذْتُ مَالِي مِنْكُمْ انْظُرُوا إِذَا أَنَا مُتُّ أَنْ تُحَرِّقُونِي حَتَّى تَدَعُونِي حُمَمًا ثُمَّ اهْرُسُونِي بِالْمِهْرَاسِ وَأَدَارَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدَيْهِ حِذَاءَ رُكْبَتَيْهِ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَفَعَلُوا وَاللَّهِ وَقَالَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِيَدِهِ هَكَذَا ثُمَّ اذْرُونِي فِي يَوْمٍ رَاحٍ لَعَلِّي أَضِلُّ اللَّهَ تَعَالَى كَذَا قَالَ عَفَّانُ قَالَ أَبِي وَقَالَ مُهَنَّا أَبُو شِبْلٍ عَنْ حَمَّادٍ أَضِلُّ اللَّهَ فَفَعَلُوا وَاللَّهِ ذَاكَ فَإِذَا هُوَ قَائِمٌ فِي قَبْضَةِ اللَّهِ تَعَالَى فَقَالَ يَا ابْنَ آدَمَ مَا حَمَلَكَ عَلَى مَا فَعَلْتَهُ قَالَ مِنْ مَخَافَتِكَ قَالَ فَتَلَافَاهُ اللَّهُ تَعَالَى بِهَا
حضرت معاویہ بہزی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ انہوں نے نبی علیہ السلام سے عرض کیا کہ میں نے اتنی مرتبہ (اپنے ہاتھوں کی انگلیاں کھول کر کہا) قسم کھائی تھی (کہ آپ کے پاس نہیں آؤں گا، اب میں آپ کے پاس آ گیا ہوں تو) مجھے بتائیے کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو کس چیز کے ساتھ بھیجا ہے؟ نبی علیہ السلام نے فرمایا اللہ تعالیٰ نے مجھے اسلام کے ساتھ بھیجا ہے، پوچھا اسلام کیا ہے ؟ نبی علیہ السلام نے فرمایا اس بات کی گواہی دینا کہ اللہ کے علاوہ کوئی معبود نہیں اور یہ کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اس کے بندے اور رسول ہیں، اور نماز قائم کرو اور زکوۃ ادا کرو۔یہی دونوں چیزیں مددگار ہیں، اور اللہ اس شخص کی توبہ قبول نہیں کرتا جو اسلام قبول کرنے کے بعد دوبارہ شرک میں مبتلا ہوجائے۔ میں نے عرض کیا یا رسول اللہ! ہم پر اپنی بیوی کا کیا حق بنتا ہے؟ نبی علیہ السلام نے فرمایا جب تم کھاؤ تو اسے کھلاؤ، جب تم پہنو تو اسے بھی پہناؤ ، اس کے چہرے پر نہ مارو ، اسے گالیاں مت دو، اور اس سے قطع تعلقی اگر کرو تو صرف گھر کی حد تک رکھو۔ پھر فرمایا تم سب یہاں (شام کی طرف اشارہ کیا) جمع کئے جاؤ گے، تم میں سے بعض سوار ہوں گے، بعض پیدل اور بعض چہروں کے بل۔قیامت کے دن جب تم لوگ پیش ہوگے تو تمہارے منہ پر مہر لگا دی جائے گی اور سب سے پہلے جو چیز بولے گی، وہ ران ہوگی۔ اور نبی علیہ السلام نے فرمایا جس شخص سے اس کا چچا زاد بھائی اس کے مال کا زائد حصہ مانگے اور وہ اسے نہ دے تو قیامت کے دن فیصلہ سے پہلے اسے گنجا سانپ بنا دیا جائے گا، جو اسے ڈستا رہے گا۔ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی علیہ السلام نے ارشاد فرمایا پہلے زمانے میں ایک آدمی تھا جسے اللہ تعالیٰ نے خوب مال ودولت اور اولاد سے نواز رکھا تھا، وقت گذرتا رہا حتیٰ کہ ایک زمانہ چلا گیا اور دوسرا زمانہ آ گیا، جب اس کی موت کا وقت قریب آیا تو اس نے اپنے بچوں سے کہا کہ میرے بچو! میں تمہارے لئے کیسا باپ ثابت ہوا؟ انہوں نے کہا بہترین باپ، اس نے کہا کیا اب تم میری ایک بات مانوگے؟ انہوں نے کہا جی ہاں! اس نے کہا دیکھو، جب میں مر جاؤں تو مجھے آگ میں جلا دینا اور کوئلہ بن جانے تک مجھے آگ ہی میں رہنے دینا، پھر اس کوئلے کو ہاون دستے میں اس طرح کوٹنا (ہاتھ کے اشارے سے بتایا) پھر جس دن ہوا چل رہی ہو، میری راکھ کو سمندر میں بہا دینا، شاید اس طرح میں اللہ کو نہ مل سکوں، نبی علیہ السلام نے فرمایا اللہ کی قسم! ان لوگوں نے اسی طرح کیا، لیکن وہ اسی لمحے اللہ کے قبضے میں تھا، اللہ نے اس سے پوچھا کہ اے ابن آدم! تجھے اس کام پر کس چیز نے ابھارا؟ اس نے کہا پرودگار! تیرے خوف نے، اللہ تعالیٰ نے اس خوف کی برکت سے اس کی تلافی فرمادی۔
