مسند احمد ۔ جلد نہم ۔ حدیث 235

حضرت معاویہ بن حیدہ رضی اللہ عنہ کی مرویات

حَدَّثَنَا مُهَنَّأُ بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ أَبُو شِبْلٍ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ أَبِي قَزَعَةَ عَنْ حَكِيمِ بْنِ مُعَاوِيَةَ عَنْ أَبِيهِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّ رَجُلًا كَانَ فِيمَنْ كَانَ قَبْلَكُمْ رَغَسَهُ اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى مَالًا وَوَلَدًا حَتَّى ذَهَبَ عَصْرٌ وَجَاءَ عَصْرٌ فَلَمَّا حَضَرَتْهُ الْوَفَاةُ قَالَ أَيْ بَنِيَّ أَيَّ أَبٍ كُنْتُ لَكُمْ قَالُوا خَيْرَ أَبٍ قَالَ فَهَلْ أَنْتُمْ مُطِيعِيَّ قَالُوا نَعَمْ قَالَ انْظُرُوا إِذَا مُتُّ أَنْ تُحَرِّقُونِي حَتَّى تَدَعُونِي فَحْمًا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَفَعَلُوا ذَلِكَ ثُمَّ اهْرُسُونِي بِالْمِهْرَاسِ يُومِئُ بِيَدِهِ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَفَعَلُوا وَاللَّهِ ذَلِكَ ثُمَّ اذْرُونِي فِي الْبَحْرِ فِي يَوْمِ رِيحٍ لَعَلِّي أَضِلُّ اللَّهَ تَبَارَكَ وَتَعَالَى قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَفَعَلُوا وَاللَّهِ ذَلِكَ فَإِذَا هُوَ فِي قَبْضَةِ اللَّهِ تَبَارَكَ وَتَعَالَى فَقَالَ يَا ابْنَ آدَمَ مَا حَمَلَكَ عَلَى مَا صَنَعْتَ قَالَ أَيْ رَبِّ مَخَافَتُكَ قَالَ فَتَلَافَاهُ اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى بِهَا

حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی علیہ السلام نے ارشاد فرمایا پہلے زمانے میں ایک آدمی تھا جسے اللہ تعالیٰ نے خوب مال ودولت اور اولاد سے نواز رکھا تھا، وقت گذرتا رہا حتیٰ کہ ایک زمانہ چلا گیا اور دوسرا زمانہ آ گیا، جب اس کی موت کا وقت قریب آیا تو اس نے اپنے بچوں سے کہا کہ میرے بچو! میں تمہارے لئے کیسا باپ ثابت ہوا؟ انہوں نے کہا بہترین باپ، اس نے کہا کیا اب تم میری ایک بات مانوگے؟ انہوں نے کہا جی ہاں! اس نے کہا دیکھو، جب میں مر جاؤں تو مجھے آگ میں جلا دینا اور کوئلہ بن جانے تک مجھے آگ ہی میں رہنے دینا، پھر اس کوئلے کو ہاون دستے میں اس طرح کوٹنا (ہاتھ کے اشارے سے بتایا) پھر جس دن ہوا چل رہی ہو، میری راکھ کو سمندر میں بہا دینا، شاید اس طرح میں اللہ کو نہ مل سکوں، نبی علیہ السلام نے فرمایا اللہ کی قسم! ان لوگوں نے اسی طرح کیا، لیکن وہ اسی لمحے اللہ کے قبضے میں تھا، اللہ نے اس سے پوچھا کہ اے ابن آدم! تجھے اس کام پر کس چیز نے ابھارا؟ اس نے کہا پرودگار! تیرے خوف نے، اللہ تعالیٰ نے اس خوف کی برکت سے اس کی تلافی فرمادی۔

یہ حدیث شیئر کریں