مسند احمد ۔ جلد ہشتم ۔ حدیث 1438

حضرت ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کی مرویات

قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ بَيْنَ أَيْدِيكُمْ فِتَنًا كَقِطَعِ اللَّيْلِ الْمُظْلِمِ يُصْبِحُ الرَّجُلُ فِيهَا مُؤْمِنًا وَيُمْسِي كَافِرًا وَيُمْسِي مُؤْمِنًا وَيُصْبِحُ كَافِرًا الْقَاعِدُ فِيهَا خَيْرٌ مِنْ الْقَائِمِ وَالْقَائِمُ فِيهَا خَيْرٌ مِنْ الْمَاشِي وَالْمَاشِي فِيهَا خَيْرٌ مِنْ السَّاعِي قَالُوا فَمَا تَأْمُرُنَا قَالَ كُونُوا أَحْلَاسَ بُيُوتِكُمْ

اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تمہارے آگے تاریک رات کے حصوں کی طرح فتنے آرہے ہیں اس زمانے میں ایک آدمی صبح کو مسلمان اور شام کو کافر ہوگا یا شام کو مسلمان اور صبح کو کافر ہوگا ، اس زمانے میں بیٹھا ہوا شخص کھڑے ہوئے سے ، کھڑا ہوا چلنے والے سے ، اور چلنے والا دوڑنے والے سے بہتر ہوگا صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے پوچھا پھر آپ ہمیں کیا حکم دیتے ہیں ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اپنے گھر کا ٹاٹ بن جانا۔

یہ حدیث شیئر کریں