مسند احمد ۔ جلد ہشتم ۔ حدیث 1391

حضرت ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کی مرویات

حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا هَمَّامٌ عَنْ قَتَادَةَ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ أَنَّ أَبَا مُوسَى الْأَشْعَرِيَّ كَانَ لَهُ أَخٌ يُقَالُ لَهُ أَبُو رُهْمٍ وَكَانَ يَتَسَرَّعُ فِي الْفِتْنَةِ وَكَانَ الْأَشْعَرِيُّ يَكْرَهُ الْفِتْنَةَ فَقَالَ لَهُ لَوْلَا مَا أَبْلَغْتَ إِلَيَّ مَا حَدَّثْتُكَ إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ مَا مِنْ مُسْلِمَيْنِ الْتَقَيَا بِسَيْفَيْهِمَا فَقَتَلَ أَحَدُهُمَا الْآخَرَ إِلَّا دَخَلَا جَمِيعًا النَّارَ

خواجہ حسن رحمتہ اللہ علیہ کہتے ہیں حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ کا ایک بھائی تھا جو بڑھ چڑھ کر فتنے کے کاموں میں حصہ لیتا تھا وہ اسے منع کرتے لیکن وہ باز نہ آتاوہ اس سے فرماتے اگر میں یہ سمجھتا کہ تمہیں سی نصیحت بھی کافی ہوسکتی ہے جو میری رائے میں اس سے کم ہوتی (تب بھی میں تمہیں نصیحت کرتا) اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ جب دومسلمان تلواریں لے کر ایک دوسرے کے سامنے آجائیں اور ان میں سے ایک دوسرے کو قتل کردے تو قاتل اور مقتول دونوں جہنم میں جائیں گے

یہ حدیث شیئر کریں