مسند احمد ۔ جلد ہشتم ۔ حدیث 1225

حضرت عمروبن عبسہ رضی اللہ عنہ کی مرویات

حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ يَعْنِي ابْنَ دِينَارٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ ذَكْوَانَ عَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ عَنْ عَمْرِو بْنِ عَبَسَةَ قَالَ أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَنْ تَبِعَكَ عَلَى هَذَا الْأَمْرِ قَالَ حُرٌّ وَعَبْدٌ قُلْتُ مَا الْإِسْلَامُ قَالَ طِيبُ الْكَلَامِ وَإِطْعَامُ الطَّعَامِ قُلْتُ مَا الْإِيمَانُ قَالَ الصَّبْرُ وَالسَّمَاحَةُ قَالَ قُلْتُ أَيُّ الْإِسْلَامِ أَفْضَلُ قَالَ مَنْ سَلِمَ الْمُسْلِمُونَ مِنْ لِسَانِهِ وَيَدِهِ قَالَ قُلْتُ أَيُّ الْإِيمَانِ أَفْضَلُ قَالَ خُلُقٌ حَسَنٌ قَالَ قُلْتُ أَيُّ الصَّلَاةِ أَفْضَلُ قَالَ طُولُ الْقُنُوتِ قَالَ قُلْتُ أَيُّ الْهِجْرَةِ أَفْضَلُ قَالَ أَنْ تَهْجُرَ مَا كَرِهَ رَبُّكَ عَزَّ وَجَلَّ قَالَ قُلْتُ فَأَيُّ الْجِهَادِ أَفْضَلُ قَالَ مَنْ عُقِرَ جَوَادُهُ وَأُهْرِيقَ دَمُهُ قَالَ قُلْتُ أَيُّ السَّاعَاتِ أَفْضَلُ قَالَ جَوْفُ اللَّيْلِ الْآخِرُ ثُمَّ الصَّلَاةُ مَكْتُوبَةٌ مَشْهُودَةٌ حَتَّى يَطْلُعَ الْفَجْرُ فَإِذَا طَلَعَ الْفَجْرُ فَلَا صَلَاةَ إِلَّا الرَّكْعَتَيْنِ حَتَّى تُصَلِّيَ الْفَجْرَ فَإِذَا صَلَّيْتَ صَلَاةَ الصُّبْحِ فَأَمْسِكْ عَنْ الصَّلَاةِ حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ فَإِذَا طَلَعَتْ الشَّمْسُ فَإِنَّهَا تَطْلُعُ فِي قَرْنَيْ شَيْطَانٍ وَإِنَّ الْكُفَّارَ يُصَلُّونَ لَهَا فَأَمْسِكْ عَنْ الصَّلَاةِ حَتَّى تَرْتَفِعَ فَإِذَا ارْتَفَعَتْ فَالصَّلَاةُ مَكْتُوبَةٌ مَشْهُودَةٌ حَتَّى يَقُومَ الظِّلُّ قِيَامَ الرُّمْحِ فَإِذَا كَانَ كَذَلِكَ فَأَمْسِكْ عَنْ الصَّلَاةِ حَتَّى تَمِيلَ فَإِذَا مَالَتْ فَالصَّلَاةُ مَكْتُوبَةٌ مَشْهُودَةٌ حَتَّى تَغْرُبَ الشَّمْسُ فَإِذَا كَانَ عِنْدَ غُرُوبِهَا فَأَمْسِكْ عَنْ الصَّلَاةِ فَإِنَّهَا تَغْرُبُ أَوْ تَغِيبُ فِي قَرْنَيْ شَيْطَانٍ وَإِنَّ الْكُفَّارَ يُصَلُّونَ لَهَا

حضرت عمروبن عبسہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نے عکاظ میں بارگاہ رسالت میں حاضر ہو کرعرض کیا کہ اس دین کے معاملے میں آپ کی پیروی کون لوگ کررہے ہیں ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا آزادبھی اور غلام بھی اس وقت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ اور حضرت بلال رضی اللہ عنہ تھے پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا ابھی تم واپس چلے جاؤیہاں تک کہ اللہ تعالیٰ اپنے پیغمبرکوغلبہ عطاء فرمادے چنانچہ کچھ عرصے بعد میں دوبارہ حاضر ہوا اور عرض کیا اللہ مجھے آپ پر نثار کرے کچھ چیزیں ہیں جو آپ جانتے ہیں لیکن میں نہیں جانتا مجھے بتانے سے آپ کا کوئی نقصان نہیں ہوگا البتہ اللہ تعالیٰ مجھے اس سے فائدہ پہنچادے گا کیا اوقات میں سے کوئی خاص وقت زیادہ افضل ہے ؟ کیا کوئی وقت ایسابھی ہے جس میں نماز سے اجتناب کیا جائے ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم نے مجھ سے ایسا سوال پوچھاہے جو تم سے پہلے کسی نے نہیں پوچھا اللہ تعالیٰ درمیانی رات میں آسمان دنیا پر نزول فرماتا ہے اور شرک وبدکاری کے علاوہ سب گناہوں کو معاف فرمادیتا ہے اس وقت نماز میں فرشتے حاضر ہوتے ہیں لہٰذاتم طلوع آفتاب تک نماز پڑھتے رہوجب سورج طلوع ہوجائے تب بھی اس وقت تک نہ پڑھوجب تک کہ سورج بلند نہ ہوجائے ، کیونکہ جب وہ طلوع ہوتا ہے شیطان کے دوسینگوں کے درمیان کے درمیان طلوع ہوتا ہے اور اسی وقت کفاراسے سجدہ کرتے ہیں ، البتہ جب وہ ایک یا دو نیزے کے برابر بلند ہوجائے تو پھر نماز پڑھ سکتے ہو کیونکہ یہ نماز فرشتوں کی حاضری والی ہوتی ہے، یہاں تک کہ نیزے کا سایہ پیداہونے لگے تو نماز سے رک جاؤ کیونکہ اس وقت جہنم کودہکایا جاتا ہے البتہ جب سایہ ڈھل جائے تو تم نماز پڑھ سکتے ہو کیونکہ اس نماز میں بھی فرشتے حاضر ہوتے ہیں یہاں تک کہ تم عصر کی نماز پڑھ لو نماز عصر پڑھنے کے بعد غروب آفتاب تک نوافل پڑھنے سے رک جاؤ کیونکہ وہ شیطان کے دوسینگوں کے درمیان غروب ہوتا ہے اور اسے اس وقت کفارسجدہ کرتے ہیں ۔

یہ حدیث شیئر کریں