مسند احمد ۔ جلد ششم ۔ حدیث 2289

حضرت عتبان بن مالک کی مرویات

قَالَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنِ الزُّهْرِيِّ فَسُئِلَ سُفْيَانُ عَمَّنْ قَالَ هُوَ مَحْمُودٌ إِنْ شَاءَ اللَّهُ أَنَّ عِتْبَانَ بْنَ مَالِكٍ كَانَ رَجُلًا مَحْجُوبَ الْبَصَرِ وَأَنَّهُ ذَكَرَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ التَّخَلُّفَ عَنْ الصَّلَاةِ قَالَ هَلْ تَسْمَعُ النِّدَاءَ قَالَ نَعَمْ قَالَ فَلَمْ يُرَخِّصْ لَهُ

حضرت عتبان بن مالک کی بینائی انتہائی کمزور تھی (تقریبا نابینا تھے) انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اس بات کا تذکرہ کیا کہ وہ جماعت کی نماز سے رہ جاتے ہیں ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے پوچھا کہ کیا تم اذان کی آواز سنتے ہو؟ انہوں نے کہا جی ہاں ! تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں عدم حاضری کی رخصت نہ دی۔

یہ حدیث شیئر کریں