مسند احمد ۔ جلد ششم ۔ حدیث 2177

حضرت ابوزید طلحہ بن سہل کی حدیثیں ۔

حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ حَكِيمٍ قَالَ حَدَّثَنِي إِسْحَاقُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ قَالَ حَدَّثَنِي أَبِي قَالَ قَالَ أَبُو طَلْحَةَ كُنَّا جُلُوسًا بِالْأَفْنِيَةِ فَمَرَّ بِنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ مَا لَكُمْ وَلِمَجَالِسِ الصُّعُدَاتِ اجْتَنِبُوا مَجَالِسَ الصُّعُدَاتِ قَالَ قُلْنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّا جَلَسْنَا لِغَيْرِ مَا بَأْسٍ نَتَذَاكَرُ وَنَتَحَدَّثُ قَالَ فَأَعْطُوا الْمَجَالِسَ حَقَّهَا قُلْنَا وَمَا حَقُّهَا قَالَ غَضُّ الْبَصَرِ وَرَدُّ السَّلَامِ وَحُسْنُ الْكَلَامِ

حضرت ابوطلحہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ہم لوگ اپنے گھروں کے صحن میں بیٹھے ہوئے تھے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا وہاں سے گذر ہوا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم ان بلندیوں پر کیوں بیٹھے ہو یہاں بیٹھنے سے اجتناب کیا کرو ہم نے عرض کیا یا رسول اللہ یہاں کسی گناہ کے کام کے لئے نہیں بیٹھتے بلک صرف مذاکرہ اور باہم گفت وشنید کے لئے جمع ہوئے ہیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مجلسوں کو ان کا حق دیا کرو ہم نے پوچھا کہ وہ حق کیا ہے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا نگاہیں جھکا کر رکھنا، سلام کا جواب دینا اور اچھی بات کرنا۔

یہ حدیث شیئر کریں