حضرت ابوزید طلحہ بن سہل کی حدیثیں ۔
حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ سَلَمَةَ عَنْ ثَابِتٍ عَنْ سُلَيْمَانَ مَوْلَى الْحَسَنِ بْنِ عَلِيٍّ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ عَنْ أَبِيهِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَاءَ ذَاتَ يَوْمٍ وَالسُّرُورُ يُرَى فِي وَجْهِهِ فَقَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّا لَنَرَى السُّرُورَ فِي وَجْهِكَ فَقَالَ إِنَّهُ أَتَانِي مَلَكٌ فَقَالَ يَا مُحَمَّدُ أَمَا يُرْضِيكَ أَنَّ رَبَّكَ عَزَّ وَجَلَّ يَقُولُ إِنَّهُ لَا يُصَلِّي عَلَيْكَ أَحَدٌ مِنْ أُمَّتِكَ إِلَّا صَلَّيْتُ عَلَيْهِ عَشْرًا وَلَا يُسَلِّمُ عَلَيْكَ أَحَدٌ مِنْ أُمَّتِكَ إِلَّا سَلَّمْتُ عَلَيْهِ عَشْرًا قَالَ بَلَى حَدَّثَنَا عَفَّانُ قَالَ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ حَدَّثَنَا ثَابِتٌ قَالَ قَدِمَ عَلَيْنَا سُلَيْمَانُ مَوْلَى الْحَسَنِ بْنِ عَلِيٍّ زَمَنَ الْحَجَّاجِ فَحَدَّثَنَا عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ عَنْ أَبِيهِ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَاءَ ذَاتَ يَوْمٍ وَالْبِشْرُ يُرَى فِي وَجْهِهِ فَذَكَرَهُ
حضرت ابوطلحہ سے مروی ہے کہ ایک دن نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا صبح کے وقت انتہائی خوشگوار موڈ تھا اور بشاشت کے آثار چہرہ مبارک پر نظر آرہے تھے صحابہ نے عرض کیا یا رسول اللہ آج تو صبح کے وقت آپ کاموڈ بہت خوشگوار ہے جس کے آثار چہرہ مبارک سے نظر آ رہے ہیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہاں آج میرے پاس اپنے پروردگار کی طرف سے ایک آنے والا آیا اور کہنے لگا کہ کیا آپ اس بات پر راضی نہیں ہیں کہ آپ کی امت میں سے جو شخص آپ پر ایک مرتبہ درود پڑھے گا میں اس پر دس مرتبہ رحمت نازل کروں گا اور جو آپ پر ایک مرتبہ سلام پڑھے گا میں اس پردس مرتبہ سلامتی بھیجوں گا۔
گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
