مسند احمد ۔ جلد ششم ۔ حدیث 2120

حضرت عبداللہ جو کہ مطرف کے والد ہیں کی حدیثیں ۔

قَالَ حَدَّثَنَا وَكِيعٌ قَالَ حَدَّثَنَا هِشَامٌ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ مُطَرِّفِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ أَبِيهِ أَنَّ رَجُلًا انْتَهَى إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَقُولُ وَقَالَ وَكِيعٌ مَرَّةً انْتَهَى إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَقْرَأُ أَلْهَاكُمْ التَّكَاثُرُ حَتَّى زُرْتُمْ الْمَقَابِرَ قَالَ يَقُولُ ابْنُ آدَمَ مَالِي مَالِي وَهَلْ لَكَ مِنْ مَالِكَ إِلَّا مَا تَصَدَّقْتَ فَأَمْضَيْتَ أَوْ لَبِسْتَ فَأَبْلَيْتَ أَوْ أَكَلْتَ فَأَفْنَيْتَ

حضرت عبداللہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اس وقت آپ سورت تکاثر کی تلاوت فرما رہے تھے ابن آدم کہتا ہے کہ میرا مال میرا مال جبکہ تیرامال تو صرف وہی ہے جو تو نے صدقہ کر کے آگے بھیج دیا یا پہن کر پرانا کر دیا یا کھا کر ختم کر دیا۔

یہ حدیث شیئر کریں