حضرت ابورزین لقیط بن عامر کی مرویات۔
قَالَ حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ قَالَ أَخْبَرَنَا يَعْلَى بْنُ عَطَاءٍ عَنْ وَكِيعِ بْنِ عُدُسٍ عَنْ عَمِّهِ أَبِي رَزِينٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الرُّؤْيَا عَلَى رِجْلِ طَائِرٍ مَا لَمْ تُعَبَّرْ فَإِذَا عُبِّرَتْ وَقَعَتْ قَالَ وَالرُّؤْيَا جُزْءٌ مِنْ سِتَّةٍ وَأَرْبَعِينَ جُزْءًا مِنْ النُّبُوَّةِ قَالَ وَأَحْسِبُهُ قَالَ لَا يَقُصُّهَا إِلَّا عَلَى وَادٍّ أَوْ ذِي رَأْيٍ
حضرت ابورزین سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا خواب پرندے کے پاؤں پر ہوتا ہے تاقتیکہ اس کی تعبیر نہ دی جائے اور جب تعبیر دے دی جائے تو وہ اسی کے موافق پورا ہوجاتا ہے اور فرمایا کہ خواب اجزاء نبوت میں سے چھیالیسواں جزو ہے اور غالباً یہ بھی فرمایا کہ خواب صرف اسی شخص کے سامنے بیان کیا جائے جو محبت کرنے والا ہویا اس معاملے میں رائے دے سکتا ہو۔
