مسند احمد ۔ جلد ششم ۔ حدیث 1957

حضرت قیس بن ابی غزرہ کی حدیثیں ۔

قَالَ حَدَّثَنَا بَهْزٌ قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ قَالَ حَبِيبُ بْنُ أَبِي ثَابِتٍ أَخْبَرَنِي قَالَ سَمِعْتُ أَبَا وَائِلٍ يُحَدِّثُ عَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي غَرَزَةَ قَالَ خَرَجَ إِلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَنَحْنُ نَبِيعُ الرَّقِيقَ نُسَمَّى السَّمَاسِرَةَ فَقَالَ يَا مَعْشَرَ التُّجَّارِ إِنَّ بَيْعَكُمْ هَذَا يُخَالِطُهُ لَغْوٌ وَحَلِفٌ فَشُوبُوهُ بِصَدَقَةٍ أَوْ بِشَيْءٍ مِنْ صَدَقَةٍ

حضرت قیس بن ابی غزرہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے دور باسعادت میں ہم تاجروں کو پہلے سماسرہ دلال کہا جاتا تھا ایک دن نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے اور فرمایا اے گروہ تجار نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں پہلے سے زیادہ عمدہ نام سے مخاطب کیا تجارت میں قسم اور جھوٹی باتیں بھی ہوجاتی ہیں لہذا اس میں صدقات وخیرات کی آمیزش کرلیا کرو ۔

یہ حدیث شیئر کریں