حضرت عبداللہ بن زبیر بن عوام کی مرویات۔
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ قَالَ أَخْبَرَنَا أَيُّوبُ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ أَنَّ عَلِيًّا ذَكَرَ ابْنَةَ أَبِي جَهْلٍ فَبَلَغَ ذَلِكَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ إِنَّمَا فَاطِمَةُ بِضْعَةٌ مِنِّي يُؤْذِينِي مَا آذَاهَا وَيُنْصِبُنِي مَا أَنْصَبَهَا حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا الْحَكَمِ قَالَ سَأَلْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ الزُّبَيْرِ عَنْ الْجَرِّ وَالدُّبَّاءِ
حضرت ابن زبیر سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ حضرت علی نے ابوجہل کی بیٹی کا نکاح کی نیت سے تذکرہ کیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات معلوم ہوئی تو فرمایا کہ فاطمہ میرے جسم کا حصہ ہے اس کی تکلیف مجھے تکلیف دیتی ہے اور اس کی پریشانی مجھے پریشان کردیتی ہے۔ ابوحکم کہتے ہیں کہ میں نے حضرت ابن زبیر سے مٹکے اور کدو کی نبیذ کے متعلق پوچھا تو انہوں نے فرمایا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے منع فرمایا ہے۔
