حضرت ابواسید ساعدی کی حدیثیں
قَالَ حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْغَسِيلِ قَالَ حَدَّثَنِي أَسِيدُ بْنُ عَلِيٍّ عَنْ أَبِيهِ عَلِيِّ بْنِ عُبَيْدٍ عَنْ أَبِي أُسَيْدٍ صَاحِبِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَكَانَ بَدْرِيًّا وَكَانَ مَوْلَاهُمْ قَالَ قَالَ أَبُو أُسَيْدٍ بَيْنَمَا أَنَا جَالِسٌ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذْ جَاءَهُ رَجُلٌ مِنْ الْأَنْصَارِ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ هَلْ بَقِيَ عَلَيَّ مِنْ بِرِّ أَبَوَيَّ شَيْءٌ بَعْدَ مَوْتِهِمَا أَبَرُّهُمَا بِهِ قَالَ نَعَمْ خِصَالٌ أَرْبَعَةٌ الصَّلَاةُ عَلَيْهِمَا وَالِاسْتِغْفَارُ لَهُمَا وَإِنْفَاذُ عَهْدِهِمَا وَإِكْرَامُ صَدِيقِهِمَا وَصِلَةُ الرَّحِمِ الَّتِي لَا رَحِمَ لَكَ إِلَّا مِنْ قِبَلِهِمَا فَهُوَ الَّذِي بَقِيَ عَلَيْكَ مِنْ بِرِّهِمَا بَعْدَ مَوْتِهِمَا
حضرت ابواسید سے مروی ہے کہ ایک دن میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھا ہوا تھا ایک انصاری آدمی آکر کہنے لگا یا رسول اللہ کیا والدین فوت ہونے کے بعد بھی کوئی ایسی نیکی ہے جو میں ان کے ساتھ کر سکتاہوں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہاں چارقسم کی چیزیں ہیں ان کے لئے دعائے خیر کرنا ان کے لئے توبہ کرنا اور ان کے وعدے کو پوراکرنا اور ان کے دوستوں کو خیال رکھنا اور ان رشتہ داروں کو جوڑ کر رکھنا جوان کی طرف سے بنتی ہے ان کے انتقال کے بعد انہیں برقرار رکھنا تمہارے ذمے ان کے ساتھ حسن سلوک ہے۔
