مسند احمد ۔ جلد ششم ۔ حدیث 1817

حضرت سہل بن حنیف کی مرویات۔

حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ عِيسَى قَالَ حَدَّثَنَا مَالِكٌ عَنْ أَبِي النَّضْرِ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّهُ دَخَلَ عَلَى أَبِي طَلْحَةَ الْأَنْصَارِيِّ يَعُودُهُ قَالَ فَوَجَدْنَا عِنْدَهُ سَهْلَ بْنَ حُنَيْفٍ قَالَ فَدَعَا أَبُو طَلْحَةَ إِنْسَانًا فَنَزَعَ نَمَطًا تَحْتَهُ فَقَالَ لَهُ سَهْلُ بْنُ حُنَيْفٍ لِمَ تَنْتَزِعُهُ قَالَ لِأَنَّ فِيهِ تَصَاوِيرَ وَقَدْ قَالَ فِيهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا قَدْ عَلِمْتَ قَالَ سَهْلٌ أَوَلَمْ يَقُلْ إِلَّا مَا كَانَ رَقْمًا فِي ثَوْبٍ قَالَ بَلَى وَلَكِنَّهُ أَطْيَبُ لِنَفْسِي

عبیداللہ بن عبداللہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ وہ حضرت ابوطلحہ انصاری کے پاس ان کی عیادت کے لئے گئے تو وہاں حضرت سہل بن حنیف بھی آئے ہوئے تھے اسی دوران حضرت ابوطلحہ نے ایک آدمی کو بلایا جس نے ان کے حکم پر ان کے نیچے بچھا ہوا نمطہ نکال لیا حضرت سہل نے اس کی وجہ پوچھی تو انہوں نے فرمایا کہ اس پر تصویرں ہیں اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے متعلق جو فرمایا ہے وہ آپ بھی جانتے ہیں حضرت سہل نے فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کپڑوں میں بنے ہوئے نقش کو مستثنی نہیں کیا انہوں نے فرمایا کیوں نہیں لیکن مجھے اسی میں اپنے لئے راحت محسوس ہوتی ہے۔

یہ حدیث شیئر کریں